بھارت اور پاکستان کی کشیدگی پر مبنی فلم ’اڑتا تیر‘ کی نیپال میں نمائش پر پابندی

بھارتی اداکار آیوشمان کھرانہ اور سارہ علی خان کی نئی فلم ’اڑتا تیر‘ کو ریلیز سے قبل نیپال میں نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ فلم 23 اکتوبر 2026 کو سنیما گھروں میں پیش کی جانی تھی، تاہم نیپالی حکام نے اس کے مواد پر اعتراضات کے بعد ملک میں اس کی نمائش روک دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فلم کی کہانی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے گرد گھومتی ہے، جسے پابندی کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

نیپالی نیوز ویب سائٹ آن لائن خبر کے مطابق نیپال کی وزارتِ اطلاعات نے فلم تقسیم کرنے والی کمپنی نیشنل سنے گروپ کو ایک سرکاری خط کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا۔ خط کے مطابق نیپال کے مرکزی فلم سنسر بورڈ نے فلم کا جائزہ لینے کے بعد اسے نیشنل سنیما ایکٹ 2026 کی دفعہ 8 کی ذیلی شق 3 کے تحت نمائش کے لیے ناموزوں قرار دیا۔

نیپالی فلمی مصنف اور نقاد سمیپیا راج تیمیلسینا کے مطابق فلم کی نمائش پر پابندی کی وجہ اس کی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے متعلق کہانی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیپال کے قوانین میں ایسی فلموں کی نمائش محدود کرنے کی گنجائش موجود ہے جن سے کسی دوسرے ملک کی ساکھ متاثر ہونے یا دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کے مخصوص مناظر یا مکالموں پر اعتراضات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

فلم کی ریلیز سے قبل اس کے مرکزی اداکار آیوشمان کھرانہ اور سارہ علی خان نے بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل کا دورہ بھی کیا۔ دونوں اداکاروں نے فلم کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں سارہ علی خان کو عبادت کے دوران جذباتی ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

نیپال میں پابندی کے فیصلے نے فلم کی بین الاقوامی نمائش کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اگرچہ نیپالی حکام نے ملک میں فلم کی نمائش کی اجازت نہیں دی، تاہم فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 23 اکتوبر کو اس کی طے شدہ ریلیز منسوخ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ فلم کی کہانی، سنسرشپ اور علاقائی تعلقات سے متعلق اس فیصلے پر مزید ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں