جاپان کے جنوبی شہر ناگاساکی میں ہفتے کے روز دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکا کے ایٹمی حملے کی 80ویں برسی منائی گئی۔ اس موقع پر زندہ بچ جانے والے افراد اور شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے تلخ تجربات دنیا کو اس بات پر آمادہ کریں گے کہ ناگاساکی زمین پر ایٹمی بمباری کا آخری شکار شہر ثابت ہو۔
9 اگست 1945 کو امریکا نے ناگاساکی پر ایٹمی حملہ کیا جس میں اُس سال کے اختتام تک 70 ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ ہیروشیما پر بمباری کے تین دن بعد ہوا، جہاں 1 لاکھ 40 ہزار افراد جان سے گئے۔ جاپان نے 15 اگست 1945 کو ہتھیار ڈالے اور اس کے ساتھ ہی جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔
ہفتے کو ناگاساکی پیس پارک میں منعقدہ یادگاری تقریب میں 90 سے زائد ممالک کے نمائندوں سمیت تقریباً 2 ہزار 600 افراد نے شرکت کی۔ صبح 11 بج کر 2 منٹ پر، جب پلاٹونیم بم پھٹا تھا، شرکا نے خاموشی اختیار کی اور امن کی علامت کے طور پر کبوتروں کو آزاد کیا گیا۔
زندہ بچ جانے والے افراد، جنہیں زخموں، امتیازی سلوک اور تابکاری سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا سامنا رہا، اب اپنی جدوجہد نئی نسل کے حوالے کر رہے ہیں تاکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی کوشش جاری رکھ سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زندہ بچ جانے والوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 99 ہزار رہ گئی ہے اور ان کی اوسط عمر 86 سال سے زیادہ ہے۔ اس خطرے کے پیشِ نظر مقامی تنظیموں نے متاثرین کی کہانیاں ریکارڈ کر کے ڈیجیٹل شکل میں یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔