آج کل پاکستان کے بہت سے شہروں میں خاصی گرمی پڑ رہی ہے اور ہمارے ہاں گرمی میں چائے ، کافی کا بہت زیادہ رجحان نہیں ، مگر کافی پینے والوں کی عادتیں ایسی پختہ ہوجاتی ہیں کہ وہ گرمی میں بھی جب تک کافی پینے سے اپنے دن کا آغاز نہیں کرتے، انہیں لطف نہیں آتا۔ خاص کر دفاتر وغیرہ میں جہاں ائرکنڈیشن چل رہا ہوں وہاں کافی پینا ایک خوشگوار عمل ہے۔
صبح کی شروعات میں کافی کا ایک کپ پینا ایک پسندیدہ روایت ہے۔ کافی کے ذائقے سے لطف اندوز ہونا، بینز کو پسنے کا عمل، اور کیفین سے حاصل ہونے والا توانائی کا جھٹکا سب کو خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔ یہ دن کا آغاز کرنے کا ایک بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، کافی کے حوالے سے بعض عام غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جنہیں سائنسی حقائق کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔
گہری بھنی ہوئی کافی زیادہ طاقتور نہیں ہوتی
اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گہری روسٹ والی کافی میں کیفین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس کا ذائقہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔ تاہم، حقیقت میں کافی بینز کو بھوننے کی مدت اور شدت کے فرق کی وجہ سے، درمیانی روسٹ میں کیفین کی مقدار گہری روسٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تھامس جیفرسن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں ثابت ہوا کہ ایک ہی مقدار میں درمیانی روسٹ والی کافی میں کیفین زیادہ پایا گیا۔ اس لیے گہری روسٹ کا کیفین سے زیادہ اثر صرف ذائقے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے، نہ کہ کیفین کی مقدار میں اضافے سے۔
کافی بچوں کی نشوونما کو متاثر نہیں کرتی
بچوں کو کافی یا دیگر کیفین والے مشروبات نہ دینے کی دلیل عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ کیفین بچوں کی جسمانی نشوونما میں رکاوٹ بن سکتی ہے، لیکن اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ کیفین بھوک کم کر سکتی ہے، لیکن اس کا بچے کی نشوونما پر کوئی واضح اثر نہیں پڑتا۔ تاہم، کیفین بچوں کی نیند، توجہ اور دل کی دھڑکن پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے بچوں میں کیفین کے استعمال کو محدود رکھنا چاہیے۔ کیفین کی زیادتی سے بچوں میں بے چینی، معدے کی خرابی، اور موڈ میں تبدیلی جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
کافی جسم میں پانی کی کمی کا باعث نہیں بنتی
کیفین ایک ڈائوریٹک ہے، یعنی یہ پیشاب کی مقدار بڑھا سکتا ہے، جس کی بنیاد پر کافی کے ڈی ہائیڈریٹنگ ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے۔ تاہم، 2014 میں یونیورسٹی آف برمنگھم کی ایک تحقیق میں 50 افراد کو چار کپ کافی اور پانی پینے کے تجربات میں شامل کیا گیا، جس میں پایا گیا کہ کافی اور پانی کے ہائیڈریٹنگ اثرات میں کوئی خاص فرق نہیں۔ کافی میں کیفین کے باوجود زیادہ تر پانی ہوتا ہے، جو کیفین کے ہلکے اثر کو کم کر دیتا ہے۔
کافی دل کی بیماریوں کا باعث نہیں بنتی
کافی پینے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ نہیں بڑھتا، بلکہ 2022 میں یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی ایک تحقیق کے مطابق، روزانہ دو سے تین کپ کافی پینا دل کی صحت میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس تحقیق میں برطانیہ کے نصف ملین سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس میں فوری، پسی ہوئی، اور کیفین سے پاک کافی کے استعمال کو دل کی بیماریوں اور اموات میں نمایاں کمی سے منسلک پایا گیا۔
تاہم، کیفین کا استعمال ہمیشہ اعتدال میں ہونا چاہیے اور صحت کے حوالے سے کسی بھی سوال پر ماہر صحت سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
کافی کے حوالے سے یہ حقائق عام غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے کیفین کے معتدل استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور سائنسی بنیادوں پر کافی کے فوائد اور ممکنہ نقصانات کو واضح کرتے ہیں