ایران-امریکہ مذاکرات، وزیر خارجہ مارکو روبیو منظر سے غائب کیوں ہیں؟

امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے دوران سفارتی قیادت اور حکومتی ڈھانچے کے کردار پر بحث شروع ہو گئی ہے، کیونکہ موجودہ وزیرِ خارجہ اہم ملاقاتوں اور بیرونی دوروں میں کم نظر آ رہے ہیں۔

ماضی میں جب براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پایا تھا تو اس وقت کے وزیرِ خارجہ نے طویل مذاکرات کی قیادت کی تھی اور کئی ماہ تک براہِ راست فریقین سے مسلسل رابطے میں رہے تھے۔

اس کے برعکس اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایران سے مذاکرات کے لیے جو وفد بھیجا جا رہا ہے، اس میں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو خود شریک نہیں ہوں گے۔ وہ اس سے پہلے بھی ایران، یوکرین اور غزہ سے متعلق اہم ملاقاتوں میں موجود نہیں رہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیرِ خارجہ بیک وقت قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زیادہ توجہ صدر کے ساتھ رہنے اور اندرونی حکومتی معاملات پر مرکوز ہے، جبکہ بیرونی دورے محدود ہو گئے ہیں۔

اس کے بجائے کئی اہم سفارتی ذمہ داریاں صدر کے قریبی مشیروں کے سپرد کی گئی ہیں جو مختلف عالمی تنازعات میں مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ہی شخص کے پاس دو اہم عہدے ہونے سے روایتی سفارت کاری متاثر ہو رہی ہے اور وزارتِ خارجہ کا کردار کمزور پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے عالمی سطح پر امریکہ کی سفارتی سرگرمیوں میں خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے اور فیصلوں میں تیزی آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں بھی ایسے مثالیں موجود ہیں، تاہم زیادہ تر رائے یہی ہے کہ دونوں اہم ذمہ داریوں کو ایک ساتھ نبھانا ایک بڑا اور غیر معمولی بوجھ ہے۔

یوں موجودہ امریکی سفارتی نظام روایتی انداز سے ہٹ کر زیادہ مرکزیت کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں