اشرافیہ کا اقبال بلند ہو

ہمارے حکمران جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو کبھی انہیں جیل کے نظام میں اصلاحات کی توفیق نہیں ہوئی لیکن جب وہ جیل جاتے ہیں تو دہائی دی جاتی ہے کہ یہ تو سات براعظموں کے مظلوم ترین لوگ ہیں اور جیل میں ان کے ساتھ بڑا ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے۔ یہ پھر جیسے ہی جیل سے رہا ہو کر آتے ہیں، سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ انہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ جیل کے نظام میں بہتری لانی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟

سادہ سا جواب ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انہیں خوب معلوم ہے جیل ان کے لیے پلٹ کر جھپٹنے کا صرف ایک بہانہ ہے۔ یہ جیل جاتے ہیں تو وہاں خصوصی میڈیکل یونٹ تعینات ہو جاتے ہیں۔ انہیں کئی کمروں کا سیل مل جاتا ہے۔ انہیں شاندار کھانے دیے جاتے ہیں۔ بیمار ہو جائیں تو حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھا جاتا ہے۔ کل تک صاحب ذی وقار کو کچھ ہو گیا تو کون جواب دے گا اور پھر انہیں بیرون ملک روانہ کر دیا جاتا۔ یا پھر ہسپتال کے کسی گوشے میں مزے سے جیل کاٹ کر یہ نیلسن منڈیلے بن جاتے ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی نجی ہسپتال کا پورا ایک فلور ان عالی جاہوں کے لیے خالی کرا دیا جائے کہ مہاراج باقی مریض جائیں بھاڑ میں، آپ تشریف لائیے، آپ کا اقبال بلند ہو۔

اس ساری چاند ماری میں سوال یہ نہیں کہ انہیں کیوں سہولیات دی جاتی ہیں، یہ سہولیات انہیں ضرور دی جانی چاہیے۔ اصل سوال اور ہے اور وہ یہ ہے کہ جیل میں عام قیدیوں کو کب انسان کا بچہ سمجھا جائے گا اور کب ان کے ساتھ بھی انسانوں جیسا سلوک ہو گا؟

کچھ سال پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق اسی راولپنڈی میں دل اور جگر کے امراض سے بیس قیدی صرف ایک سال میں مر جاتے ہیں۔ اندازہ کیجیے، ایک سال میں بیس قیدی۔ کبھی ان کے لیے بھی کسی ہسپتال کے دروازے کھولے گئے۔ پورے کا پورا فلور تو چھوڑیے ہسپتال کے کسی ٹوٹے ہوئے بیڈ کا کوئی کونہ بھی کبھی ان کے نصیب میں آیا۔

حالت یہ ہے کہ دو سال میں صرف پنجاب کی جیلوں میں دل جگر اور دیگر امراض کی وجہ سے 145 قیدی جاں بحق ہو جاتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں ہوتی لیکن شاہی طبقے کا کوئی قیدی جیل چلا جائے تو سارا نظام مدر ٹریسا بن جاتا ہے۔

حکمران اشرافیہ کے مزاج نازک پر بھی یہاں مضمون باندھے جاتے ہیں کہ صاحب کی انزائٹی بڑھ گئی ہے لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ تین ہزار چار سو ننانوے خواتین جیلوں میں کس حال میں پڑی ہیں اور کیا وہاں ان کی عزت اور عزت نفس محفوظ ہے، ان کے بلڈ پریشر اور انزائٹی کا عالم کیا ہے؟

حکمران اشرافیہ کو کبھی قید ہو جائے تو اس کے لیے جیل میں خصوصی سیل مختص کر دیا جاتا ہے لیکن کیا کوئی بتائے گا کہ جیل میں حاملہ خواتین کے لیے بھی الگ سے کوئی کمرہ تک کیوں نہیں ہوتا؟

اشرافیہ کے قیدیوں کے لیے تو جیل میں خصوصی طبی عملہ تعینات ہو جاتا ہے لیکن کیا کوئی بتائے گا کہ ان ساڑے تین ہزار خواتین کے لیے جیلوں میں کتنی گائنا کالوجسٹ موجود ہیں؟

اشرافیہ کے ایک قیدی کے لیے کئی کمروں کا ایک خصوصی سیل مختص کرنے والوں سے کوئی پوچھے گا کہ اسی جیل میں دس قیدیوں کے کمرے میں چالیس قیدی کیوں ٹھونسے جاتے ہیں۔ اڈیالہ جیل انیس سو قیدیوں کے لیے بنی تھی تو وہاں پانچ ہزار سے زیادہ قیدی کیوں رکھے گئے ہیں؟ یہ انسان ہیں یا جانور ہیں جنہیں باڑے میں ٹھونس دیا گیا ہے؟

کوئی بتائے گا کہ جب مجموعی طور پر ہماری جیلوں میں چھیالیس ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے تو وہاں چوراسی ہزار قیدی کیوں موجود ہیں۔ سیاسی قیدیوں کے لیے تو پورا سیل ہے اور ان کی انزائٹی پر بھی نوحے بلند کیے جاتے ہیں لیکن عام قیدیوں میں سے کسی ایک کو متعدی بیماری لاحق ہو جائے تب بھی اسے الگ رکھنے کی گنجائش نہیں۔ کیوں؟

شاہی خاندانوں کا کوئی چشم و چراغ جیل جائے تو ان کی انزائٹی کے لیے نجی ہسپتالوں کے فلور مختص ہو جاتے ہیں لیکن رعایا کے ساتھ حسنِ سلوک کا عالم یہ ہے کہ پنجاب کی 32 میں سے 22 جیلوں میں ای سی جی تک کی سہولت نہیں ہے اور ایکس رے کی سہولت بھی صرف 4 ہسپتالوں میں موجود ہے۔ حالانکہ پرزن ایکٹ کی دفعہ 39 کے تحت ہر جیل میں ایک ہسپتال ہونا چاہیے۔

نصف سے زیادہ جیلوں میں پنکھے تک نہیں اور چالیس درجہ حرارت میں قیدیوں کو صرف کراس وینٹی لیشن پر گزارا کرنا ہوتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ گیارہ جیلوں میں قیدیوں کو ایک دوسرے کے سامنے رفع حاجت کرنا پڑتی ہے۔

مجال ہے کبھی کسی کو خیال آیا ہو کہ عام قیدی کس حال میں ہے۔ یہاں دکھ بھی صرف اشرافیہ کے ہیں، حقوق انسانی بھی صرف اشرافیہ کے ہیں، نظام بھی صرف اشرافیہ کے لیے مدر ٹریسا بنتا ہے اور یہاں کی رعایا کو بھی اپنے غموں اور دکھوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے بچے کتوں کے کاٹنے سے ویکسین کی عدم دستیابی سے مرتے ہیں یا ناقص ادویات سے، انہیں صرف اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ شاہِ جہانگیر جہاں بخت جہاندار کا اقبال بلند رہے۔ وہ اس بات سے بے نیاز ہیں کہ ان کے گھر کوئی مریض ہو جائے تو دوائیں لینا بھی کسی کان کنی سے کم نہیں ہوتا، رعایا صرف اپنے بادشاہوں کے درد میں ہوتی ہے۔ نظام بھی صرف شاہی اشرافیہ کی کوزہ گری کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں