پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے کہا ہے کہ افغانستان تصادم کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کی سلامتی اور استحکام کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
افغانستان میں عبوری حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار احمد شکیب نے کہا کہ 15 اگست کو افغان عوام نے اپنی تاریخ کا ایک نیا باب شروع کیا اور چار دہائیوں سے زائد جنگ، بیرونی مداخلت اور مصائب کے بعد اپنے مستقبل کے فیصلوں کا اختیار دوبارہ حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اب جنگ کے دور سے نکل کر ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں اسلامی نظام کے تحت پائیدار استحکام، تعمیر نو، معاشی ترقی اور عالمی برادری کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا ترجیح ہے۔
افغان سفیر کے مطابق ایک پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی رابطوں، اقتصادی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے لیے اہم مواقع پیدا کر سکتا ہے اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان قدرتی پل کے طور پر تجارت، ٹرانزٹ، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
سردار احمد شکیب نے کہا کہ افغانستان کی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ ممالک کو اولین اہمیت حاصل ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات باہمی احترام، خودمختاری کی برابری، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد دباؤ یا طاقت کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے باہمی تفہیم، مسلسل مذاکرات اور مخلصانہ تعاون ضروری ہے۔
افغان سفیر نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات فطری ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں فاصلے بڑھانے کے بجائے مذاکرات، باہمی احترام اور سیاسی دانش مندی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان توقع کرتا ہے کہ اس کے جائز سکیورٹی خدشات کا بھی احترام کیا جائے گا اور کوئی ملک اپنی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔