انڈونیشیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد ہزاروں متاثرین امداد کے منتظر

انڈونیشیا کے مشرقی صوبے ایسٹ نوسا ٹینگارا میں 7.7 شدت کے زلزلے کے 2 روز بعد ہزاروں افراد اب بھی امداد کے منتظر ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 54 اور زخمیوں کی تعداد 135 ہو گئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق فلوریس جزیرے کے کئی علاقوں میں لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرنے، جاں بحق افراد کا سوگ منانے اور امداد پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ بعض متاثرہ آبادیاں اب بھی زمینی رابطوں سے کٹی ہوئی ہیں۔

زلزلے سے 1300 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں فلوریس جزیرے پر تقریباً 250 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ تعلیمی و طبی مراکز اور سرکاری عمارتوں سمیت درجنوں عوامی عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

صوبائی حکومت نے اتوار کو 14 روز کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔

انڈونیشیا کی قومی آفات انتظامیہ کے مطابق پیر کی صبح تک تقریباً 12 ہزار 800 افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے تھے اور انہیں فلوریس کے مختلف علاقوں میں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔ مزید آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث ہزاروں افراد نے تباہ شدہ گھروں کے باہر ترپالوں کے نیچے رات گزاری۔

بعض متاثرین نے امداد پہنچنے میں تاخیر کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خیمے، خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی درکار ہے۔

انڈونیشیا کی فضائیہ نے دو ہرکولیس طیاروں اور ایک بوئنگ کے ذریعے 13 ٹن ہنگامی امداد پہنچانے کا اعلان کیا ہے، جس میں خوراک، کپڑے، صاف پانی اور طبی سامان شامل ہے۔

دور دراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ فوج نے امداد کی تقسیم کے لیے اہلکار تعینات کیے ہیں۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں زخمیوں کے علاج کے لیے عارضی فیلڈ ہسپتال بھی قائم کیے جائیں گے۔ روتینگ میں ایک ہسپتال کو نقصان پہنچنے کے بعد طبی عملے نے خیموں میں مریضوں کا علاج شروع کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں