لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کے شعبے کے ملازمین کو دی جانے والی مفت یونٹس ختم کرنے سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مفت بجلی یونٹس کوئی قانونی حق نہیں بلکہ سروس سے وابستہ ایک سہولت تھی، جسے انتظامی اور مالی اصلاحات کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی 5 دسمبر 2023 کی جاری کردہ پالیسی کو درست قرار دیا، جس کے تحت واپڈا اور اس سے منسلک تقسیم و پیداوار کمپنیوں کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دی جانے والی مفت بجلی کو مالی ادائیگی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پہلے گریڈ 18 سے 22 تک کے افسران کو مجموعی طور پر سالانہ تقریبا 7 کروڑ 50 لاکھ یونٹس بجلی مفت فراہم کی جاتی تھی، جس پر 4 سے 4.5 ارب روپے تک لاگت آتی تھی۔ نئی پالیسی کے تحت اب افسران بجلی کے بل ادا کریں گے جبکہ ان کی سابقہ سہولت کے مطابق ایک مقررہ رقم ان کی تنخواہ میں شامل کر دی گئی ہے۔
درخواست گزار، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی انجینئرز اینڈ آفیسرز ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مفت بجلی یونٹس ان کی سروس کا حصہ ہیں اور انہیں ختم کرنا غیر قانونی اور امتیازی سلوک ہے، خاص طور پر جب گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کو یہ سہولت بدستور حاصل ہے۔
تاہم حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ اقدام بجلی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط لانے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ یہ شعبہ گردشی قرضے اور دیگر مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق یہ سہولت ختم نہیں کی گئی بلکہ اسے مالی شکل دے دی گئی ہے تاکہ انتظامی پیچیدگیاں کم ہوں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی قانونی شق پیش نہیں کی گئی جس سے یہ ثابت ہو کہ مفت بجلی یونٹس ایک قابلِ نفاذ حق تھے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران ایک الگ کیڈر ہیں، اس لیے ان کے ساتھ مختلف سلوک آئینی خلاف ورزی نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ معاشی اور مالیاتی پالیسیاں حکومت کا اختیار ہیں اور عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی جب تک واضح آئینی خلاف ورزی ثابت نہ ہو۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے ملازمین کو مفت یونٹس دینے کا خاتمہ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، اور یہ اقدام ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔