‘امن کی خاطر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی حمایت جاری رکھیں گے’، وزیراعظم پاکستان کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم کےموقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات

وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے دو طرفہ ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق، یہ ملاقات انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے پانچویں اجلاس کے موقع پر ہوئی، جس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے، جبکہ ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران صدر ایردوان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ترکیہ آمد پر خوش آمدید کہا اور فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیرِ اعظم نے صدر ایردوان کی دعوت اور پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور انطالیہ ڈپلومیسی فورم کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم ایک اہم عالمی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی۔ وزیرِ اعظم نے جنگ بندی کو طول دینے اور مذاکرات کی بحالی سے متعلق پیش رفت سے بھی صدر ایردوان کو آگاہ کیا تاکہ پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیرپا اور مستحکم علاقائی امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا آٹھواں اجلاس رواں سال انقرہ میں منعقد کیا جائے گا۔

دونوں رہنماؤں نے جاری منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور مشترکہ وژن کے تحت امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں