لاہور میں مغلیہ دور کے کمہار سے منسلک ‘بدھو کا آوا’، جو اب مٹی کا ڈھیر ہے

لاہور کے تاریخی ورثے سے محبت کرنے والے افراد میں تشویش کی لہر اس وقت دوڑی جب سنگھ پورہ کے مقام پر ‘بدھو کا آوا’ نام سے منسوب مغلیہ دور کی باقیات کی جگہ خالی نظر آئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ‘تاریخی اہمیت کی حامل ان باقیات کو مسمار کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی جگہ اب خالی زمین دکھائی دیتی ہے۔’

شالامار باغ کے قریب اور انجینئرنگ یونیورسٹی کے بالمقابل واقع اس مقام پر تاریخی کردار ‘بدھو’ سے منسوب ایک مقبرہ بھی ہے جو تاریخ دانوں کے ہاں متنازع ہے، البتہ اس سے متصل ‘آوا’ مغل دور کے ایک کمہار کی بھٹی کی وجہ سے مشہور ہے۔ ‘آوا’ لفظ پنجابی اور فارسی میں بھٹی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں سفال گر مٹی کے برتن اور اینٹیں بنا کر پکاتے ہیں۔

‘بدھو کے آوے’ سے متعلق شہر لاہور کے باسیوں کے ہاں کئی دلچسپ کہانیاں مشہور ہیں۔ محقق طلحہ شفیق نے تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘یہ کوئی افسانوی کردار نہیں تھا بلکہ روایت میں اس کا تذکرہ جا بجا ملتا ہے۔ ان کے والد کا نام سدھو تھا، جو شاہی کاریگر تھے اور شاہی عمارات کے لیے اینٹیں فراہم کرتے تھے۔’

شاہی خاندان سے وابستگی کی بناء پر یہ کافی اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ تھے۔ طلحہ شفیق کہتے ہیں کہ ‘ان کے کردار کے حوالے سے دو زبانی روایات کافی مشہور ہیں۔ ایک بار سخت سردی میں حضرت میاں میرؒ کے مرید شیخ عبدالحق قادری بدھو کے بھٹے پر آئے اور آگ کے پاس بیٹھنا چاہا، مگر بدھو نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اس بدسلوکی پر شیخ نے بدھو کو بددعا دی کہ اس کی اینٹیں اب کبھی پختہ نہیں ہوں گی، اور واقعی ایسا ہی ہوا۔’

طلحہ کے مطابق ‘سکھ روایت میں یہی واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ بدھو نے گُرو ارجن دیو کے ارادت مند بھائی کملا کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور کملا نے اسے شراپ دیا تھا۔ دونوں روایات میں اتفاق ہے کہ بدھو اس کے بعد سخت پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔’

ایک واقعے میں بدھو نے جہاں بزرگ کو ڈھونڈ کر معافی مانگی اور ان کے انتقال پر یہ مقبرہ تعمیر کروایا، وہیں دوسری روایت کے مطابق اس نے کملا کو خوش کرنے کے لیے اپنے آوے میں گردوارہ تعمیر کروایا، جو انجینئرنگ یونیورسٹی کی جگہ پر پہلے موجود تھا۔

ان تین مقامات میں اب بھٹے کی زمین کو سرکار کی جانب سے کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ طلحہ شفیق سمجھتے ہیں کہ ‘زبانی روایات کے مطابق بدھو چونکہ شاہی عمارات کے لیے اینٹیں فراہم کرتا تھا، تو اس کے لیے ضروری تھا کہ اس بھٹے اور اینٹوں کے بننے کے طریقہ کار پر تحقیق کی جاتی، جس سے مغل آرکیٹکچر کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوتی۔’

ایک اور محقق ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری نے لکھا ہے کہ’ بدھو جہانگیر کے دور کے معروف کمہار سُدھو کا بیٹا تھا، اور باپ بیٹا دونوں ہی اس فن میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ چونکہ شاہجہاں کو عمارتیں تعمیر کرانے کا خاص شوق تھا، اس لیے بدھو اس کے کام کے لیے بالکل موزوں سمجھا گیا اور جلد ہی شاہجہاں کا منظورِ نظر بن گیا۔ اسے ’’اینٹوں کا بادشاہ‘‘ کہا جانے لگا اور اس کی شہرت پورے علاقے میں پھیل گئی۔’

مورخین کے مطابق ان زبانی روایات سے ہمیں بدھو کے کردار اور اس جگہ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی ملتی ہے، تاہم مقبرہ غلط طور پر بدھو کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے۔ بدھو کے آوے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے باوجود یہ جگہ اس کے نام سے ہی منسوب ہوئی۔

لاہور کے کھوجی کے نام سے مشہور فیضان نقوی ان دنوں اس مقام کے ڈھائے جانے کے خلاف کافی سرگرم ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “لاہور میں بدھو کے کئی جگہوں پر آوے تھے۔ ان میں ایک جگہ جی ٹی روڈ کے پاس تھی جسے بدھو کا مقبرہ کہا جاتا ہے لیکن ہندو ہونے کے ناطے اس کا کوئی مقبرہ نہیں تھا۔ یہ دراصل خان دوراں کا مقبرہ ہے جو شاہ جہاں کے زمانے میں امیرالامراء گزرا ہے۔ یہ مقبرہ محکمۂ آثارِ قدیمہ کے محفوظ ورثے کی فہرست کا حصہ ہے۔”

فیضان نے بتایا کہ “سنگھ پورہ میں اسی طرح بدھو کے آوے کی باقیات موجود تھیں، جس میں ایک ٹیلے کی صورت کئی اینٹیں تھیں اور وہاں بارش ہونے کے بعد پرانی مٹی کے برتنوں کی چیزیں برآمد ہوتی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہی جگہ تھی جہاں بابا نے بددعا دی تھی اور اینٹیں ٹھنڈی رہ گئی تھیں۔”

فیضان نے آخری بار اس آوے کو دیکھا تھا تو یہ تین کنال تک پھیلی ہوئی جگہ تھی۔ اب انہوں نے دیکھا تو یہ جگہ بالکل خالی کر دی گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘لاہور کی تاریخی شناخت سے جڑے قدیم مقامات ایک بار پھر غفلت کا شکار ہیں۔ شہر کے مضافات میں واقع یہ ٹیلہ، جس میں صدیوں پرانے آثار موجود تھے، متعلقہ محکموں، مقامی حکومت، ٹاؤن کمیٹی اور عوامی سطح پر تاریخ و ورثہ سے دلچسپی رکھنے والوں کی خاموشی کے باعث بالآخر طاقتور بلڈوزروں کی نذر ہوگیا۔’

ان کے مطابق، انہوں نے اس مقام کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں۔ ‘ہم نے اسے عالمی سطح تک روشناس کروایا، غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں اس کا ذکر شامل کرایا اور کئی مرتبہ عوامی و نجی دورے بھی کروائے۔ اس کے باوجود یہ مقام محکمہ آثارِ قدیمہ کی محفوظ فہرست میں شامل نہ ہو سکا، جو اس کی تباہی کا بنیادی سبب سمجھا جا رہا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘یہ معاملہ لاہور کے دیگر قدیم مقامات کے مستقبل کے بارے میں بھی خدشات پیدا کرتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے کئی مقامات، جو مختلف کتب میں درج ہیں، ابھی تک سرکاری تحفظ سے محروم ہیں۔’

ہم نے اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کا موقف جاننے کی کوشش کی تو ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ جگہ محفوظ ورثے کی فہرست کا حصہ نہیں ہے۔ اس کے آگے مزید انہوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بات کرنے سے معذرت کی۔ تاہم محققین کا خیال ہے کہ محفوظ ورثے کے بجائے یہ ایک نظر انداز کیا ہوا مقام ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں