آنکھیں کھلی رکھنا

جواں سال بچوں اور بچیوں کے لیے جو بغرض تعلیم یا بسلسلہ روزگار گھر سے دُور ہیں ،حتٰی کہ گھر میں ہیں۔

تھوڑی آنکھیں کھلی رکھنا۔ دنیا میں مختلف مقامات پر ایسے کیسز سامنے آئے ہیں کہ کوئی صاف ستھری، پڑھی لکھی شخصیت آپ کی زندگی میں ‘مہربان دوست بن کر داخل ہوئی مگر وہ اصلاً ایک criminal شخصیت تھی، مرد یا عورت، کوئی کلاس فیلو، کوئی اُستاد، کوئی کولیگ، کوئی بزرگ۔اِس جدید دور میں آپ کی ساری پرائیویسی اِس کم بخت سکرین میں دھری ہے۔ موبائل فون ہو، لیپ ٹاپ، یا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر۔ یہ خود بڑی بے وفا سی چیزیں ہیں۔ آج آپ کے پاس ہیں تو کل نہیں۔ احتیاط!۔۔۔ اور آپ مجھ سے زیادہ آگاہ ہو کہ ظاہری اعتبار سے یہ ڈیٹا اور ہِسٹری آپ ڈیلیٹ بھی کر دیں تو اِنہیں recover کر لینے کے آپشنز موجود رہتے ہیں۔ نیز، آپ ہر وقت اِن پر پہرہ بھی نہیں دے سکتے۔ زیادہ سے زیادہ پاس وَرڈ لگا سکتے ہیں، اور وہ تو ضرور ہی لگائے رکھنا چاہئیے۔

دیکھا گیا ہے کہ نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر بلیک میل کرنے والے gangs اور نیٹ ورکس ہیں جن کے نمائندے ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں ـــــ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، ہنستے مسکراتے، پڑھے لکھے، صاف ستھرے افراد۔ مگر اصلاً وہ سٹاکرز Stalkers یعنی شکاری ہوتے ہیں۔

آپ میل ہیں یا فی میل، ایسے افراد بخوبی آگا ہوتے ہیں کہ:
1۔ آپ نوجوان ہیں۔
2۔ آپ کا کچھ وقت تنہائی میں گذرتا ہے۔ آج کل کی تنہائی 25 برس پہلے والی مجرّد تنہائی نہیں ہے، بلکہ یہ منٹس اور گھنٹے ٹیکنالوجی کے ساتھ چھیڑا چھاڑی میں گذرا کرتے ہیں، یعنی آپ کسی نہ کسی ڈیوائس پر پائے جاتے ہیں۔
3۔ بچوں اور نوجوانوں نے بیشتر اس ٹیکنالوجی کے فوائد دیکھ رکھے ہیں۔ وہ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہی ڈیوائسز کس قدر خطرناک بھی ہیں۔ انٹرٹینمنٹ یعنی تفریحی مواد ہو یا تعلیمی نوعیت کا، اس کے آس پاس بہت کچھ ایسا دِکھتا رہتا ہے جس پر ایک سِنگل کلِک آپ کو "زیادہ مزے دار جہانوں” کی سیر یں کروانے لگتا ہے
4۔ جنسی کشش اورجنسی لذّت ایک ایسی بَلا ہے جو اِس عمر میں ہزار احتیاط کے باوجود انسان پر رہ رہ کر حملہ آور ہوتی ہے۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور، یہ جبلّت instinct اپنے حق میں کچھ دیکھنا / کرنا مانگتی ہے۔۔۔ اور پھر کمزور لمحوں میں انسان اِس بَلا کا شکار ہو کر کچھ نہ کچھ کرتا ضرور ہے۔

یہ شکاری لوگ خوب ذہین لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اِن چار باتوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں ہر انسان غلطیاں کرتا، کچھ کمزوریاں رکھتا ہے۔

واصف علی واصف کی ایک سٹیٹمنٹ ہے:
"بہتر ہے گناہ نہ کرو، اور اُس پر ہرگز ہرگز کسی انسان کو گواہ نہ بناؤ۔”

حتٰی کہ آج کا مخلص دوست بھی کل کا دُشمن ہو سکتا ہے۔۔ کہ تعلقات میں بگاڑ آ ہی جاتا ہے۔ تب غیر ذمّہ دار طبیعت بندہ آپ کی کمزوریوں سے کھیل سکتا، آپ کو بدنام یا پریشان کر سکتا ہے۔۔۔ اپنی کمزوریاں، غلطیاں شیئر کرنے میں احتیاط برتیں۔ تھوڑا فاصلہ!
ایسے ہی criminal افراد میں نشہ آور چیزیں بیچنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔

یہاں کے سکولز اور کالجز میں بار بار ایسے افراد پکڑے گئے، اب بھی موجود ہیں، جو آپ کو پڑھائی اور گھر کی ٹینشنز سے تھوڑا escape دلا کر ‘سکون لینے’ کو پہلے پہل ایسا ‘سٹَف’ بالکل مُفت فراہم کرتے ہیں۔ آپ کے خون، آپ کے نفس کو چاٹ لگ جائے تو ہر چند گھنٹوں بعد وہ بیتحاشا اُسے طلب کرنے لگتا ہے۔ خود پر قابو ختم ہو جاتا ہے۔

اِس لیے، اگر کبھی انجانے میں پہلی ڈوز آپ کے بدن کو چُھو لے تو اَلرٹ ہو جائیں۔ شور مچائیں، رپورٹ کریں۔ آس پاس میں موجود سب افراد کو بتا کر اعلان کر ڈالیں۔ اِس میں آپ کاا پنا تحفّظ ہے، اور بہت سے دیگر افراد کا بھی۔

اسی طرح، اگر کوئی ڈیٹا کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے، یا خدانخواستہ آپ کوئی اور بلنڈر کر بیٹھیں جس کی بنیاد پر کوئی آپ کو پریشان کرے تو سمجھداری اُس کو چھپا کر رکھنے میں نہیں۔
سمجھداری اُس پر فوری رِی ایکٹ کرنے میں بھی نہیں۔

بلکہ سمجھداری یہ ہے کہ شرم اور خوف کا شکار ہوئے بِنا وہ بات اپنی فیملی اور ایک آدھ بااعتماد دوست کے نوٹس میں لائیں، مشاورت کریں، اِس سے نئے راستے کھلیں گے۔ پوری دلیری سے کہہ ڈالیں:
"میں شرمندہ ہوں مجھ سے ایک بڑی غلطی ہو گئی جس پر مجھے کوئی پریشان کر رہا ہے۔”

ضروری نہیں کہ ننگے لفظوں ساری بات بتائی جائے۔ بلکہ ملفوف لفظوں میں اشارات دے دیں کہ غلطی کی نوعیت کیا ہے۔۔۔ یہ طریقہ ہوتا ہے۔۔۔

جو غلطی ہوئی سو ہوئی، اُسے ہو کر رہنا تھا۔ مگر کسی کو حق نہیں پہنچتا وہ آپ کی گردن دبوچ لے، بلیک میل کرنے لگ جائے۔ غلطیان کچھ نیا سیکھ کر بہ اعتماد آگے بڑھ جانے کے لیے ہوتی ہیں، پہلے سے بہتر اور سمجھدار انسان بن کر جینے کے لیے۔
مشورہ کرنا اللہ کے رسولؐ کا شیوہ ہے، اور حکم بھی۔

ایسے حالات میں کیسی ہی سخت دھمکی اور خوف کیوں نہ ہو، آپ نے ڈرنا نہیں!۔۔۔ جو ڈر گیا وہ مر گیا!!
یاد رکھیں، اللہ بہت بڑا ہے!

جب وہ دیکھ لیتا ہے کہ غلطی کرنے والا پلٹ آیا ہے، شرمندہ ہے، مدد کا طالب ہے تو وہ آپ کے حق میں ہوائیں چلانا شروع کر دیتا ہے۔ وہ بڑے سے بڑے مکّار دُشمن کو چٹکیوں میں گھیر لیتا، اُسے فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ آپ ناجائز ڈیمانڈ پوری کرنے کی بجائے، اور فوری

غصہ دکھانے کی بجائے تین چیزوں پر شِفٹ لیں:
1۔ سب سے پہلے خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی معذرت پیش کریں، سوری کریں، اور مدد کی درخواست کریں۔ اللّہ کوئی خواب وخیال یا تصوّر نہیں، بلکہ زندہ و موجود سب سے زیادہ طاقتور ہستی ہے۔
2۔ اب، اپنے والدین، بڑے بہن بھائی، ایک آدھ بااعتماد دوست کے ساتھ معاملہ شیئر کریں۔
3۔ آپ سٹریٹجی یعنی سٹیپ بائی سٹیپ والی حکمتِ عملی اختیار کریں گے۔ اپنے اعتماد والے لوگوں کے ساتھ مل کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے رابطے میں آنا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں، قانون کے ہاتھ بہت لمبے اور طاقتور ہوتیہیں۔

اب یہ سات باتیں
1۔ کسی دھوکہ و فریب میں آ جانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں، بلکہ خوفزدہ ہوجانا، اور نہ سنبھلنا بڑا مسئلہ
ہے۔ مثلاً کوئی آپ سے کہتا ہے اُس کمرے میں سانپ ہے۔ آپ کمرے میں داخل ہوئے تو پتہ چلا رَبر کا بنا مصنوعی سانپ ہے۔۔تو اِس فریب کی مدد سے آپ پر حقیقت آشکار ہوگئی۔ یوں، فریب حقیقت تک لے جانے کا ذریعہ بن گیا۔
2 ہنسی مذاق والے pranks سے قطع نظر سنجیدہ نوٹ پر بات کی جائے تو اصل میں، ہر انسان کے نصیب میں کچھ حادثے، کچھ فریب، کچھ بیوفائیاں، کچھ ناقدریاں لکھی گئی ہیں جو ضرور واقع ہوں گی۔ یہ اُسے بہتر اَنڈرسٹینڈنگ دلائیں گی، اُس کی آنکھیں کھول ڈالیں گی۔ یہ سب انسان کی تربیت کا سامان ہے۔ تاہم، اِن اَیڈوانس تھوڑی احتیاط رکھنا، آنکھیں کھلی رکھنا ممکن بھی ہے، اور ضروری بھی۔
3۔ ایک اجنبی شخص پر شک کرنا، اُس پر اعتبار نہ کرنا آپ کا پیدائشی حق ہے۔
4۔ اِسی طرح، اگر چند روز، چند ہفتوں کی دوستی والا کوئی بندہ، کوئی خاتون آپ پر احسان کرے، بہت عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرے اور پھر اُس بِنا پر آپ سے کوئی ایسی فرمائش کرے جسے پورا کرنے میں آپ ہچکچاہٹ محسوس کریں، نامعلوم سی چُبھن کا احساس ہو کہ کچھ غلط ہے تو صاف انکار کر دیں۔ دُنیا کے سب سے بڑے دانا انسان، محمد الرسول اللہ ؐ نے ایک سادہ سا فارمولہ دے رکھا ہے:
"جو چیز شک میں ڈال دے، اُسے چھوڑ دو۔”
5۔ اِس لیے کوشش کرو کسی کا احسان بہت کم لو۔ دُعا کرو،
‘اے اللہ، مجھے احسان کرنے والا بنا۔احسان ایک بوجھ ہے۔ مشہور عربی کہاوت ہے، اَلاِحسَانُ یقطعُ الّلسان۔ یعنی احسان زبان کاٹ دیتا ہے۔ کیا مطلب؟ احسان لے کر کسی جائز بات پر بھی شکایت کرنا، معترض ہونا ممکن نہیں رہتا۔
6۔ دنیا کا مشکل ترین کام ذہنی مشقّت کو گوارا کرنا ہے، یعنی سٹڈیز/پڑھائی کرنا۔ انسانی ذہن مشکل کام کو چھوڑ کر آسان آپشن کی طرف بھاگتا ہے۔

مثلاً، آپ کتاب کھول کر بیٹھنے لگو گے تو خیال آئے گا پہلے پانی تو پی لوں۔۔ پہلے کچھ کھا پی لوں۔۔ پہلے تھوڑی واک تو کر لوں جو صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔ پہلے دوست کے ساتھ واٹس ایپ پر بات تو کر لوں۔۔۔ صرف فرض نماز پڑھی ہے، آج دو نفل بھی پڑھ لوں، عبادت کرنے سے خدا خوش ہوتا ہے۔۔”
یاد رکھیں، طالبِ علم کے لیے پڑھائی پر فوکس کرنے اور فوکس رہنے سے بڑی کوئی عبادت نہیں!
7۔ کوئی اسلامی تنظیم، یا فلاں فلاں تنظیم جوائن کر جانے کے عقب میں بھی اکثر ایسی ہی نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔ نیکی کرنے کے نام پر ذہنی فرار!۔۔۔ آپ دنیا کے سب مسائل اپنی جگہ پڑے رہنے دیں۔ جب عملاً کچھ کنٹری بیوٹ کرنے کا وقت آئے گا، تب دیکھ لیں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں