‘میرے والد کی کہانی تین دہائیوں بعد بھی ریاست کو بے چین کرتی ہے’، جسوانت سنگھ کھالڑا کی بیٹی نوکرن کور کھالڑا فلم ستلج کے تنازع پر کیا کہتی ہیں؟

بھارت کے انسانی حقوق کے کارکن جسوانت سنگھ کھالڑا کی بیٹی نوکرن کور کھالڑا نے کہا ہے کہ ان کے والد کی کہانی تین دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی نظام کو بے چین کرتی ہے۔ انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں نوکرن کور کھالڑا نے اپنے والد کی زندگی، ان کے اغواء، قانونی جدوجہد، فلم ستلج کے تنازع اور پنجاب کے ماضی سے متعلق کئی اہم سوالات پر بات کی۔

جسوانت سنگھ کھالڑا پنجاب میں شدت پسندی کے دور کے دوران مبینہ طور پر لاپتہ کیے گئے افراد اور “نامعلوم” لاشوں کی غیر قانونی آخری رسومات کے معاملے کو دستاویزی شکل دے رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ پنجاب میں ہزاروں افراد کو خفیہ طور پر جلایا گیا۔

نوکرن کور کے مطابق وہ صرف 10 برس کی تھیں اور ان کے بھائی جنمیت 8 برس کے تھے، جب انہوں نے 6 ستمبر 1995 کی صبح اپنے والد کو آخری بار دیکھا۔ ان کے مطابق جب وہ اسکول سے واپس آئے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کو پنجاب پولیس لے گئی ہے۔

نوکرن کور نے کہا کہ ایک بچے کے طور پر وہ سمجھتی تھیں کہ پولیس مجرموں کو پکڑنے کے لیے ہوتی ہے، لیکن 6 ستمبر 1995 کو یہ یقین ختم ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ والد کے اغواء کے بعد پولیس اہلکار بار بار ان کے گھر آتے رہے اور ان کی والدہ پر کیس واپس لینے اور ملوث افراد کے نام نہ لینے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔

نوکرن کور کے مطابق ان کے والد کو اپنے کام کے خطرات کا اندازہ تھا، مگر انہوں نے پیچھے ہٹنے کے بجائے قانون کے ذریعے نظام کو چیلنج کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

ان کے اغوا کے بعد جسوانت سنگھ کھالڑا کی اہلیہ پرمجیت کور کھالڑا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے عدالت میں صرف اپنے شوہر کی گمشدگی کا معاملہ نہیں اٹھایا بلکہ پنجاب میں مبینہ جعلی مقابلوں اور غیر قانونی آخری رسومات سے متعلق کھالڑا کی تحقیق بھی پیش کی۔ یہی معاملہ بعد میں سی بی آئی تحقیقات کی بنیاد بنا۔

رپورٹ کے مطابق جسوانت سنگھ کھالڑا کے کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے 2011 میں پانچ پولیس اہلکاروں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ نوکرن کور کا کہنا ہے کہ ان کے والد کا کیس صرف ایک خاندان کی لڑائی نہیں تھا بلکہ اس نے پنجاب میں لاپتہ افراد، جعلی مقابلوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے متعلق بڑے سوالات کو بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد کے اغواء کے وقت پنجاب میں لاپتہ کیے جانے اور جعلی مقابلوں کے واقعات پر بہت کم لوگ سوال اٹھاتے تھے، مگر ان کے کیس نے پولیس کو عدالت، میڈیا اور عالمی سطح پر جوابدہ ہونے پر مجبور کیا۔

فلم ستلج کے تنازع پر بات کرتے ہوئے نوکرن کور نے کہا کہ فلم کے خلاف مزاحمت ان کے لیے حیران کن نہیں تھی۔ ان کے مطابق فلم کے ہدایت کار ہنی تریہن کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ جسوانت سنگھ کھالڑا پر فلم بنانا آسان نہیں ہو گا۔

نوکرن کور نے کہا کہ فلم کو روکنے کی کوشش نے الٹا لوگوں کی توجہ اس موضوع کی طرف بڑھا دی ہے، اور اب لوگ پنجاب کے اس دور، لاپتہ افراد، غیر قانونی آخری رسومات اور انسانی حقوق کے سوالات پر دوبارہ بات کر رہے ہیں۔

فلم ستلج کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم پنجاب میں کمیونٹی اسکریننگز اب بھی جاری ہیں۔

نوکرن کور کے مطابق فلم عدالتی ریکارڈ اور دستاویزی شواہد پر مبنی ہے، اور خاندان کا مؤقف تھا کہ اگر فلم ریلیز ہو تو اپنی اصل اور مکمل شکل میں ہو۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ بعض ناقدین ان کے والد کو خالصتان تحریک کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں، تو نوکرن کور نے کہا کہ ان کے والد قانون پسند شہری تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کے دوران پنجاب پولیس کا اپنا مؤقف بھی یہی تھا کہ جسوانت سنگھ کھالڑا کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں تھا۔

نوکرن کور کے مطابق ان کے والد ایک دیندار سکھ تھے اور اس دور میں سکھوں کی تکلیف اور جدوجہد سے ہمدردی رکھتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے کام کو کبھی مذہب تک محدود نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے ہر متاثرہ شخص کی دستاویز بندی کی، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔

نوکرن کور کے مطابق اصل مسئلہ انسانی حقوق، لاپتہ افراد اور ریاستی طاقت کے استعمال کا ہے، جبکہ خالصتان کی بحث بعض حلقوں کی جانب سے ان سوالات سے توجہ ہٹانے کے لیے آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان نے اس معاملے کو کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں سمجھا۔ ان کے مطابق حکومتیں اور جماعتیں بدلتی رہیں، مگر جسوانت سنگھ کھالڑا کے کیس میں انصاف کے لیے قانونی جدوجہد 16 برس تک جاری رہی۔

نوکرن کور نے کہا کہ اگر سیاسی رہنما واقعی سنجیدہ ہیں تو پنجاب کے اس دور میں مارے گئے تمام افراد کی تعداد جاری کی جائے تاکہ سچائی دعووں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر سامنے آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے المیے میں ہندو، سکھ اور دیگر برادریوں کے بے گناہ افراد سب متاثر ہوئے، اور ایک طبقے کے متاثرین کو تسلیم کرنا دوسرے متاثرین کی تکلیف کو کم نہیں کرتا۔ نوکرن کور کے مطابق اصل ضرورت ایک مکمل اور دیانت دار تاریخی ریکارڈ بنانے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسوانت سنگھ کھالڑا کی کہانی اس لیے بار بار واپس آتی ہے کیونکہ ان کے اٹھائے گئے سوالات آج تک پوری طرح حل نہیں ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں