عرب دنیا پر اسرائیلی قبضہ اور تیل کا کند ہتھیار

درحقیقت اسرائیل عملی طور پر میں عرب دنیا پر قابض ہو چُکا ہے۔ اس وقت عرب ریاستوں کے حکمران اسرائیل کے رحم و کرم کے محتاج ہیں۔

قطر پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ہمارے جذباتی دوست عربوں کو تیل و گیس کا ہتھیار استعمال کرنے کی پرزور وکالت کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہو جائے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہوں گے؟

سوال یہ بھی ہے کیا اس وقت بھی عرب تیل کےہتھیار کے ذریعے 1970 کی دہائی کی طرح امریکہ کو گھٹنوں پر لا سکتے ہیں ؟

اس کا جواب بھی نفی میں ہے ، درحقیقت امریکہ مڈل ایسٹ کے تیل کا محتاج نہیں ہے امریکی ڈیپارٹمنٹ آف انرجی کی رپورٹ کے مطابق 1977 میں امریکہ 77 فیصد تیل اوپیک کے ممالک سے حاصل کرتا تھا۔ اب حالت یہ ہے 2024 میں امریکہ کی 68.8 فیصد تیل کی درآمدات کینیڈا اور میکسکو سے برآمد کرتا ہے۔ اب 2024 کے اعداد شمار کے مطابق سعودی سے 4.1 فیصد، عراق 3 فیصد اور متحدہ عرب امارات اعشاریہ 0.6 فیصد کے تیل فراہم کرتا ہے۔ یہ تین ممالک اس کی ضرورت کا بمشکل 8 فیصد تیل فراہم کرتے ہیں ۔

جبکہ امریکہ کے تیل کے محفوظ ذخائر میں 724 ملین بیرل سے زیادہ تیل موجود ہے ۔اس لحاظ سے تیل کا ہتھیار اسوقت تو کند ہو چُکا ہے۔اس لحاظ سے اس وقت امریکہ عربوں کی جانب کسی بھی تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حماقت اُلٹی گلے بھی پڑ سکتی ہے۔

یادرہے ڈونالڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد انتہائی دہمکی و رعونت آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کینڈا، نہر پناما اور گرین لینڈ کو امریکی علمداری میں شامل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا جس میں گرین لینڈ اور نہر پنامہ کو تو اگر ضرورت پڑی تو بزور شمشیر قبضہ کرنے کا ارادہ یہ کہتے ہوئے کہ یہ امریکی مفاد کے لئے ازحد ضروری ہے۔

مشرق وسطی میں امریکہ بڑی حدتک اسرائیلی کی پروکسی کے طور پر کام کررہا ہے۔ کسی قسم کی حماقت ٹرمپ کو امریکی قومی مفاد کے نام پر جارحانہ حرکت کا بہانہ فراہم کرسکتی ہے۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں مشرق وسطیٰ میں گشت کرتے ہوئے امریکی بحری بیٹروں کے علاوہ پورے مشرق وسطیٰ کے چپے چپے پر امریکی فوجی اڈے بکھرے ہوئے ہیں :-

بحرین : امریکی پانچویں بحری بیٹرے کا ہیڈکوارٹر۔
عراق : الاسد ایئر بیس ۔
اردن :موفق السلطي ایئر بیس ۔
کویت:کم از کم دو امریکی فوجی اور ایک فضائی اڈا علي السالم ایر بیس ۔
قطر : العديد ایئر بیس جہاں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی مستقر جو امریکی فوج کا علاقائی ہیڈکوارٹر اور تقریباً دس ہزار فوجی تعینات ہیں۔
متحدہ عرب امارات : الظفرة ائیر بیس جہاں امریکی فوج و فضائیہ کے بہت بڑا اڈا ہے جہاں پانچ ہزار سے زیادہ امریکی اہلکار تعینات ہیں۔
سعودی عرب : پرنس سلطان ائیربیس پر امریکی فضائی اڈہ ۔اور اسکان ویلیج میں امریکی اڈا۔
آزاد عراقی کردستان : میں اربیل ایئر بیس پر امریکی اڈا۔

کیا عرب دنیا کے چپّے چپّے پر پھیلا ہوا امریکی / اسرائیلی لشکر ان عرب حکمرانوں کے حَکم پر اتنی آسانی سے بوریہ بستر گول کرلے گا؟

قطر پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں دعوی کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا فیصلہ تھا اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی حرکت امریکی و اسرائیلی مفاد میں کے خلاف ہے صریحا جھوٹ ہے۔ اگر وہ واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں تھے تو کیا قطر پر حملہ آور طیاروں کے فضامیں امریکی و برطانوی تیل بردار جہازوں سے ری فیولنگ ان کی حکومتوں کے حکم و اجازت کے بغیر ہوئی تھی؟

دفاعی معاملات میں باہمی اعتماد ہی سب کچھ ہوتا ایک مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد ممکن ہے حسب مصلحت سرعام نہ کہی جائے لیکن معاملات جوں کے توں نہیں رہ سکتے اسمیں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ نے قطر کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

صدر ٹرمپ کی دیدہ دلیری، ڈھٹائی و رعونت کو دیکھتے ہوئے کچھ بعید نہیں کہ اگر عربوں نے جارحانہ اقدام کیا اور واقعتا امریکہ کے لئے تکلیف دہ ہو گیا تو امریکہ کے قومی مفاد کے نام پر ۔۔۔۔مشرق وسطیٰ کے چپے چپے پر امریکی فوج تو پہلے ہی موجود ہے۔

کیا یہ عرب حکمران مزاحمت کرپائیں گے؟؟

عرب دنیا میں چہار طرف پھیلے ہوئے امریکی اڈے، اب ان کے لئے وہ پھانسی کا پھندا ہے جو ان کے حکمرانوں نے خود بہ رضا ورغبت پہنا ہے۔ اس میں ان کی لیڈر شپ کی حماقت و بزدلی کے علاوہ اہم ترین عنصر انقلاب ایران کے بعد انقلاب کی برآمد کے خواب کو لیکر خود کو اپنے پڑوسیوں کے لئے خطرہ بنادیا ۔۔ جس کے نتیجے میں انہوں نے ایران کو اسرائیل سے بڑا خطرہ سمجھ کر امریکی چھتری تلے پناہ لی ۔

حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد بظاہر ایران اپنی غلطی سے رجوع کرنے کی کوشش کرتا محسوس ہورہا ہے ۔ لیکن ایران جیسا بھی ہے وہ اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے قابل ہے ۔ پر عربوں جس طرح خوفزدہ عربوں نے اپنی زمین کے ہر حصے میں امریکہ کے نام پر (امریکی وردی میں) اسرائیلی فوج کو گھسا لیا ہے وہ ایک خوفناک تصویر پیش کرتا ہے۔

اپنے ہاتھوں سے بکھیرے ہوئے کانٹے پلکوں سے چُنّے پڑتے ہیں۔ کیا عرب حکمران اس تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں، اگر تیار بھی جائیں تو کیا اس کی اہلیت رکھتے ہیں ؟

اونٹ کو خیمے میں لانے کی حماقت کرہی لی ہے تو اسے قمچی مار کر نکالنے کی کوشش سے بہتر ہوگا کہُ اسے صبر و حکمت کے ساتھ خیمے سے نکالنے کی کوشش کی جائے ۔ اس کے لئے امریکہ کے علاوہ متبادل طاقتوں کے ساتھ دفاعی روابط تاکہ خطے میں طاقت پر امریکی اجارہ داری کو تحلیل کرنے کا عمل شروع کیا جاسکے۔

اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی طاقت ہے جو امریکہ کے سامنے گھڑئ ہو سکتی ہے۔۔ بدقسمتی سے اس کا جواب بھی اتنا آسان نہیں ہے ۔ روس کی تاریخ دیگر ممالک میں فوجی مداخلت کی ہے لیکن اب اپنے محلے کے معاملات ہی میں الجھ کر رہ گیا ہے ۔ سوائے میزائل اور فضائی ٹیکنالوجی میں مناسب حدتک اپنا مقام قائم رکھنے کے مجموعی طور پر ایک زوال پزیر طاقت ہے۔

دوسری ممکنہ طاقت چین، حالیہ پاک بھارتی آپریشن سیندور و آپریشن بنیان مرصوص کے دوران چینی فوجی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کردیا۔ پر چین سوائے تائیوان اور شمالی چین کے سمندروں جہاں کے مختلف ممالک کےساتھ بعض جزائر کی ملکیت کے تنازعات ہیں کے علاوہ دیگر خطّوں میں اتنا فعال نہیں ہے۔

چین ایک مسلمہ صنعتی دفاعی صنعت کی تیزی سے ابھرتی ہوتی طاقت، ابھی امریکہ کے برابر تو نہیں لیکن فوجی و سولین دونوں صنعتی میدان میں اسے کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ پھر اسے خطّے میں جغرافیہ کا اضافی ایڈوانٹیج حاصل ہے۔

لیکن چین امریکہ و روس کے بر عکس دنیا کا چوہدری بننے کا شوقین بحرحال نہیں ہے ۔ وہ اس وقت تک نہیں کودے گا جب تک متعلقہ ممالک کی جانب سے درست اشارے نہ ملیں ۔ اس صورت میں چونکہ چین سعودی عرب، ایران و قطر تینوں ممالک سے تیل و گیس کا خریدار ہے اس لئے اپنی توانائی کے بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

آخری مرتبہ چینی فوجی مداخلت 1950 کی دہائی میں جنگ کوریا میں ہوئی تھی۔۔ اس کے بعد سے ہمیشہ passive کھلاڑی رہا ہے۔۔ اس کے علاوہ 1979 چین نے ویت نام کو کمبوڈیا سے نکلنے سے مجبور کرنے لیے ہلکی پھلکی کاروائی کی تھی اس کے علاوہ چین اسکی حمایت Khmer Rouge کی فوج کی ساز و سامان اور مشاورتی امداد کی حدتک تھی۔

اگر چین اس میں کودتا ہے تو تنہا نہیں کودے گا کہ بلکہ اسلحہ و سازو سامان چین اسلحہ سپلائیر و دیگر تکنیکی تعاون بشمول سیٹلائیٹ نگرانی (کسی بھی عرب اسرائیل جنگ یا تناؤ میں امریکی GPS اور ممکنہ طور پر یورپین Galileo سسٹم ممکنہ طور پر اسرائیل مخالف طاقتوں کی دسترس میں نہیں رہے گا اس لئے چینی BeiDou ہی ان کا آخری پُراعتماد سہارا ہوگا) کے حدتک ہو گا۔

پاکستان کے ساتھ جس کی فوج کی عرب ریاستوں میں خاصی عزت وپہلے ہی موجود ہے س کا بازوئے شمشیر زن کے طور پر سامنے آئے گا ۔ تیسرا عنصر ترکی کا ہے جس کی طاقتور فوج بھی پاکستان چین کے ساتھ مل کر عرب ممالک کو اسرائیلی خطرے سے تحفظ کئ ذمہ دارئ قبول کرسکتی ہے۔

لیکن پہلا کام حکمت ساتھ آہستہ آہستہ خلیج سے امریکی افواج کا انخلا ہے، اس کے لیے غیر ضروری جلد بازی کی بجائے موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کے دور صدارت کے خاتمے یا آئندہ سال کے امریکی وسط المدت انتخابات کے نتائج (اگر اس میں امریکی رائے عامہ ریپبلکن پارٹی کے خلاف ووٹ دیتی ہے) کا انتظار مناسب ہو گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں