ایران کے نائب صدر، جواد ظریف نے بچوں کی امریکی شہریت کے تنازع کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، جواد ظریف نے چیف جسٹس، غلام حسین محسنی ایجی کے مشورے پر استعفیٰ دیا، تاکہ صدر مسعود پزشکیان کی حکومت پر دباؤ کم ہو سکے۔
اپنی ایکس پوسٹ میں جواد ظریف نے بتایا کہ، انہوں نے ہفتے کے روز چیف جسٹس سے ملاقات کی، جس میں انہیں مشورہ دیا گیا کہ ،ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے، میں انتظامیہ کو مزید دباؤ سے بچانے کے لیے تدریس کے شعبے میں واپس چلا جاؤں۔
ظریف کے مطابق، انہوں نے یہ مشورہ فورا قبول کر لیا کیونکہ وہ حکومت کے لیے بوجھ بننے کے بجائے مدد کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ، ان کے استعفے کے بعد حکومت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے پاس کوئی بہانہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے صدر، پزشکیان اور ان کی حکومت کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جواد ظریف کی نائب صدارت پر ایرانی پارلیمنٹ کے کچھ ارکان مسلسل اعتراض کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ، حساس سرکاری عہدے کے لیے ان کی تقرری غیر قانونی ہے کیونکہ ان کے کم از کم ایک بچے کے پاس امریکی شہریت ہے۔
ایرانی قانون کے مطابق، ایسے افراد جو خود یا ان کے قریبی اہل خانہ غیر ملکی شہریت رکھتے ہوں، انہیں حساس حکومتی عہدوں پر فائز نہیں کیا جا سکتا۔
پزشکیان انتظامیہ نے اس قانون میں نرمی کے لیے ایک بل متعارف کرایا تھا، تاکہ ایسے افراد کو حکومتی عہدوں پر کام کرنے کی اجازت مل سکے، جن کے بچے اپنی مرضی سے غیر ملکی شہریت حاصل نہیں کرتے، جیسا کہ، جواد ظریف کے معاملے میں ہوا۔
ظریف کے بچے اس وقت امریکا میں پیدا ہوئے تھے جب وہ نیویارک میں ایران کے اقوام متحدہ مشن میں تعینات ہونے سے قبل ایک طالب علم تھے۔
یہ تنازع ابھی حل نہیں ہوا تھا اور قانون میں ترمیم کا عمل جاری تھا۔ اطلاعات کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی قانون میں اصلاحات کے حامی تھے، لیکن جواد ظریف نے اس معاملے کو طول نہ دینے کے لیے خود ہی مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
Load/Hide Comments