دنیا بھر میں آج (9 اگست) کو عالمی یومِ قبائل یعنی مقامی آبادیوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے مقامی لوگوں کی ثقافت، روایات اور طرزِ زندگی کو اجاگر کرنا اور ان کے مسائل پر روشنی ڈالنا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 1994 میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ دنیا قبائلی برادریوں کے حقوق اور ان کی بقا کے لیے اقدامات کرے۔ اس موقع پر مختلف ملکوں میں تقاریب، سیمینار اور ثقافتی میلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں قبائلی زندگی کے رنگ، موسیقی، رقص اور دستکاری کو پیش کیا جاتا ہے۔
قبائلی لوگ صدیوں پرانی روایات اور رسم و رواج کے امین ہوتے ہیں۔ وہ فطرت سے جڑے رہتے ہیں اور زمین، جنگلات اور پانی کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ تاہم ترقی کی دوڑ، زمینی تنازعات اور وسائل کی لوٹ مار کے باعث دنیا بھر میں قبائلی برادریاں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ بہت سے قبائلی گروہ اپنی زمینوں اور وسائل سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ ان کی زبانیں اور ثقافت بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں بھی مختلف علاقوں میں قبائل آباد ہیں جن کی اپنی منفرد پہچان، زبان اور طور طریقے ہیں۔ حکومت اور سماجی ادارے ان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، مگر اب بھی تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
عالمی یومِ قبائل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قبائلی لوگ مستقبل میں بھی ہماری مشترکہ تہذیب اور معاشرت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی ثقافت کا تحفظ اور مسائل کا حل دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔