اگر ’’مزیدار‘‘ہونے کا کوئی عالمی مقابلہ ہو تو شاید سموسے، پف، بسکٹ اور چپس ٹرافی لے جائیں۔ لیکن اگر ’’خاموش قاتل‘‘ کا مقابلہ ہو، تو ان میں چھپی ٹرانس فیٹی ایسڈز (TFAs) بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں گی۔ مگر ہم پاکستانی ہیں اور ہمارے ہاں تلی ہوئی چیزوں سے محبت کچھ ایسی ہے کہ اگر کوئی کہہ دے ’’یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے‘‘ تو فوراً جواب آتا ہے، ’’بھئی، موت تو ایک دن آنی ہی ہے‘‘۔
لیکن شاید ہمیں یہ نہیں معلوم کہ بعض غذائیں اس ملاقات کا وقت جلد طے کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ خوراک میں شامل ٹرانس فیٹی ایسڈز (TFAs) ایسا خاموش خطرہ ہیں جو ذائقہ تو بڑھاتے ہیں، مگر دل کی بیماریوں، فالج اور دیگر جان لیوا امراض کے امکانات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
صرف ذائقہ بڑھانے اور مصنوعات کی شیلف لائف میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹرانس فیٹی ایسڈز (TFAs) آج عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے بڑے چیلنجز میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کی محفوظ مقدار صفر کے قریب ہونی چاہیے، کیونکہ معمولی مقدار بھی دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک صنعتی ٹرانس فیٹس کے استعمال پر پابندی یا سخت حدود نافذ کر چکے ہیں، کیونکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ خراب کولیسٹرول (LDL) بڑھاتے، اچھا کولیسٹرول (HDL) کم کرتے اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
اسسٹنٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر نور یونس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صنعتی ٹرانس فیٹس کا زیادہ استعمال خاموشی سے صحتِ عامہ کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بناسپتی گھی، بیکری مصنوعات، بسکٹس اور دیگر پراسیسڈ غذاؤں میں جزوی طور پر ہائیڈروجنیٹڈ آئلز (PHOs) کا استعمال دل کی بیماریوں، فالج اور ذیابیطس جیسے غیر متعدی امراض کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر خوراک میں صنعتی ٹرانس فیٹس کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سفارش کے مطابق کل چکنائی کے صرف دو فیصد تک محدود کر دی جائے تو بڑی تعداد میں قبل از وقت اموات اور بیماریوں کی روک تھام ممکن ہے۔ ڈاکٹر نور یونس کے مطابق پاکستان میں صنعتی ٹرانس فیٹس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ مؤثر نگرانی، فوڈ انڈسٹری کی اصلاح اور عوامی آگاہی بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صارفین کو پیک شدہ غذائی مصنوعات کے اجزاء (Ingredients) اور غذائی لیبل ضرور پڑھنے چاہییں، جبکہ صنعت کو جزوی طور پر ہائیڈروجنیٹڈ آئلز کی جگہ صحت مند متبادل چکنائیوں کے استعمال کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ ان کے بقول، یہ صرف صحت کا نہیں بلکہ قومی معیشت کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے صحت کے نظام اور معیشت دونوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
پروگرام مینیجر سی پی ڈی آئی شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ملک میں نصف سے زائد اموات غیر متعدی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، جبکہ ہر تین میں سے ایک موت دل کی بیماریوں سے منسلک ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کی صورتحال بھی انتہائی سنگین ہے اور انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے اندازوں کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ 2050 تک یہ تعداد 7 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر متعدی بیماریوں کا بوجھ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت پر بھی بھاری پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں موٹاپے اور زائد وزن سے متعلق بیماریوں کی سالانہ معاشی لاگت 428 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ذیابیطس کے ایک مریض کے علاج پر سالانہ تقریباً 66 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں جو پیچیدگیوں کی صورت میں 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک جا سکتے ہیں۔ شہزاد اقبال نے زور دیا کہ صنعتی ٹرانس فیٹس اور جزوی طور پر ہائیڈروجنیٹڈ آئلز (PHOs) پر مؤثر قانون سازی اور سخت عمل درآمد نہ صرف بیماریوں کے بوجھ میں کمی لا سکتا ہے بلکہ صحت کے شعبے پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیں قاتل ہمیشہ بندوق یا زہر کی شکل میں نہیں آتا، کبھی وہ بسکٹ، نمکو، بیکری آئٹمز، سموسوں اور بار بار گرم کیے گئے تیل میں بھی چھپا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی حکومتیں ایک ایسی چکنائی کے خلاف قانون سازی کر رہی ہیں جس کا ذائقہ تو محسوس نہیں ہوتا، مگر اس کے اثرات دل کی شریانوں پر برسوں تک باقی رہتے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی اس حوالے سے مؤثر قانون سازی اور اس پر سخت عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کی صحت محفوظ ہو، صحت کے نظام پر بوجھ کم ہو اور ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ بعض اوقات زندگی بچانے کے لیے دوا نہیں، صرف بہتر خوراک کا انتخاب ہی کافی ہوتا ہے۔