چین نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایک جامع اور متحرک حکمت عملی اپنائی، جس میں سائنس، پالیسی، اور عمل درآمد کے مختلف پہلو شامل تھے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں چین کے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ بیجنگ، جو 2013 میں دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل تھا، اب بہتر فضائی معیار کی مثال بن چکا ہے۔

چین نے کون سی حیران کن کامیابیاں حاصل کیں؟
بیجنگ میں 2013 سے 2023 کے دوران فضائی آلودگی میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جس میں مضر صحت پارٹیکلز کی مقدار میں 64 فیصد، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 54 فیصد جبکہ سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 89 فیصد کمی شامل ہیں۔
‘اچھے فضائی دنوں’ کی تعداد، جو سنہ 2013 میں صرف 13 تھی، 2023 میں بڑھ کر 300 دن ہوگئی ہے۔

چین کی کامیابی کا راز کیا ہے؟
چین نے ایک جدید تھری ڈی ائیر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم، سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، اور ریڈار ٹیکنالوجی متعارف کرائی، کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس پر سخت پالیسیاں لاگو کیں، اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کر کے پبلک ٹرانسپورٹ کو وسعت دی۔
ماہرین اس بارے کیا رائے رکھتے ہیں؟
یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کی پبلک پالیسی آف انوائرمنٹ کی پروفیسر اینجل سو کا کہنا ہے کہ، "یہ چین کی مربوط اور مؤثر پالیسیوں کا نتیجہ ہے، میں جنوری میں بیجنگ میں تھی، جہاں پورے سال نیلا آسمان دیکھنا ممکن ہو چکا ہے، جو پہلے صرف چند دنوں کے لیے دکھائی دیتا تھا”۔
کلین ائیر ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر گلینڈا باتھن نے بیجنگ کے اقدامات کو دنیا کے لیے ایک مثال قرار دے دیا۔
پاکستان کیا سبق حاصل کر سکتا ہے؟
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ، پاکستان، جو چین کو اپنا ‘قریبی دوست’ کہتا ہے، انہی پالیسیز کو اپنا کر اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ، سیاسی فوائد سے بالاتر ہو کر خالص عوامی فلاح کے لیے پالیسیاں مرتب کی جائیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
چین کیلئے عالمی چیلنج کیا ہے؟
بیجنگ کی کامیابیاں اپنی جگہ، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ، اس کی آلودگی اب بھی عالمی معیار سے 6 گنا زیادہ ہے، اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون ضروری ہے تاکہ، عالمی فضائی آلودگی کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کیا جا سکے۔
ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ، بیجنگ کی فضائی آلودگی کا ایک حصہ 1000 کلومیٹر دور سے آتا ہے، جو اس مسئلے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ فضائی آلودگی نہ صرف ایک مقامی مسئلہ ہے بلکہ، یہ ایک بڑا موسمیاتی چیلنج بن چکا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم اور کلین ائیر فنڈ کے تعاون سے کام کرنے والے ادارے کلین ائیر نے فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس نے کاروباری شخصیات، پالیسی سازوں، اور مقامی حکام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ، صحت مند اور صاف ہوا کے فوائد کو فروغ دیا جا سکے۔
بیجنگ کی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ، فضائی آلودگی کے حل کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔
یاد رہے، 2021میں فضائی آلودگی کے باعث دنیا بھر میں 81 لاکھ اموات ہوئیں تھیں۔