کیا جنگیں کاروبار بن چکی ہیں؟

امریکہ جنگیں کیوں لڑتا ہے؟ اس کا کوئی مقصد بھی ہوتا ہے یا جنگ خود ایک مقصد ہوتی ہے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکہ ایران جنگ کے پہلے ایک مہینے میں دنیا کی آئل اور گیس کی 100 بڑی کمپنیوں نے کتنا منافع کمایا؟ دل تھام لیجیے اور جان لیجیے کہ 30 ملین ڈالر فی گھنٹہ۔ جی ہاں گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے پہلے ایک مہینے میں ان کمپنیوں نے ہر گھنٹے میں 30 ملین ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ امریکہ میں ان سائیڈر ٹریڈنگ پر تو اب کھلے عام بات ہو رہی ہے۔

آگے چلیے، جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے، امریکہ اس جنگ پر روزانہ پونے دوارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ جی ہاں پونے دو ارب ڈالر روزانہ۔ سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈانٹر نیشنل سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس میں جو اعداد و شمار جمع کرائے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جنگ کے چھٹے روز تک امریکہ 11 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے لیے خزانے میں صرف 3 ارب ڈالر رکھنا ایک مشکل امتحان بن جاتا ہے اور امریکہ اس جنگ پر ہر روز پونے دو ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

لارڈ کلیمنشو نے کہا تھا: جنگ ایک سنجیدہ چیز ہےا سے محض جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تو کیا اب جنگوں کو جرنیلوں کی بجائے بڑی بڑی کمپنیوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جنگ ہوتی ہے، ہزاروں لوگ مرتے ہیں لیکن لاک ہیڈ مارٹن جیسی اسلحہ ساز کمپنوں کے مزے ہو جاتے ہیں۔

ابھی خیال آیا ذرا لاک ہیڈ مارٹن کی آفیشل ویب سائٹ تو دیکھی جائے، وہاں کیا کہا جا رہا ہے۔ سائٹ کھولی تو اس کا تعارفی نوٹ ہی ایسا تھا کہ طبیعت صاف ہو گئی۔ آپ بھی پڑھیے، لکھا ہے کہ اگر چہ امریکہ افغانستان سے نکل آیا ہےاور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھی اب وہ بات نہیں رہی لیکن پینٹاگون کے اخراجات اور ٹھیکیدار کمپنیوں کی آمدن بہت زیادہ رہی ہے۔ "ایکسٹریملی ہائی لیول” پر رہی ہے۔

دوسرے پیراگراف میں بتایا گیا کہ صرف چار سالوں میں نجی فرمز کو پینٹا گون کی جانب سے 2 اعشاریہ 4 ٹریلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے ہیں۔ یعنی 24 کھرب ڈالر۔ صرف 4 سالوں میں۔ یعنی 6 کھرب ڈالر سالانہ ۔ یہ شاید آدھی یا تین چوتھائی دنیا کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ رقم بنتی ہو۔ میں نے تو جمع تفریق نہیں کی، آپ چاہیں تو کر کے دیکھ لیجیے کہ کیا صورت حال بنتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا جنگ ایک کاروبار ہے؟ جو قوتیں جنگیں لڑتی ہیں ان جنگوں کے کچھ مقاصد بھی ہوتے ہیں یا جنگ بذات خود ایک مقصد ہوتا ہے کہ جنگ جاری رہے اور کاروبار چلتے رہیں۔

اکثر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کو اب تک کی جنگوں سے کیا ملا؟ ویت نام سے کیا ملا؟ عراق جنگ اتنا طویل عرصہ لڑی ، غلط جواز بنا کر لڑی، انجام کیا ہوا؟ یعنی کیا حاصل ہوا؟ پھر بیس سال طالبان سے جنگ کی اور آخر میں اسی طالبان کے حوالے افغانستان کیا اور چلا گیا۔ اس ساری مہم جوئی سے امریکہ کو کیا ملا؟ اس کا کوئی مقصد بھی تھا یا جنگ برائے جنگ ہی اس کا مقصد رہا ہے؟

اقوام متحدہ اور انسانی ضمیرکو اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ اگر دنیا میں امن مقصود ہے تو جنگوں سے جڑی اکانومی کو کسی اخلاقی دائرہ کار میں لانا ہو گا۔ ورنہ جنگیں ختم نہیں ہوں گی۔ یہ کاروبار بن چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں