قہوہ، خوشبو اور کتابیں

سحرانگیز استنبول سے عظیم شانلے عرفہ تک

ترکی یا ترکیہ کا نام آتے ہی ذہن میں نقش حسین یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ مجھے ترکیہ جانے کا دو تین بار موقعہ ملا۔ ہر بار استنبول میں زیادہ وقت گزرا۔ البتہ ایک بار غازی انتب اور شانلے عرفہ جانے کا بھی موقعہ ملا۔

استنبول ایسا حسین شہر ہے کہ اس کے سحر سے آپ نکل نہیں سکتے۔ کہتے ہیں شہر کئی قسم کے ہوتے ہیں، بعض پہلی نظر ہی میں دل میں اترجاتے ہیں، کئی ایسے بھی ہیں جہاں چند دن یا کچھ عرصہ رہنے کے بعد دل میں اس کی کشش پیدا ہوتی ہے، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو اور آپ انہیں پہلی نظر سے ناپسند کرتے ہیں اور یہ تاثر ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ استنبول پہلی نظر میں دل میں اتر جانے والا بلکہ دل میں کھب جانے والا حسین شہر ہے۔ وہاں گزرا ایک دن بھی آپ کبھی نہیں بھلا سکتے ۔ استنبول میرے لئےعظیم الشان ترک تاریخ ، حسین اور کشادہ دل ترک مکینوں ، مختلف ذائقے والی عمدہ ترکش چائے اور لذید کھانوں کا حوالہ ہے۔

ترک لوگ ماشااللہ حسین اور بڑے نفیس ہیں۔ عام طور سے ہمارے ہاں لوگ حسن کو نسائیت کے حوالے سے دیکھتے ہیں، وہ اپنی جگہ مگر ترک بچے بھی بہت پیارے ہوتے ہیں اور خاص کر ترک بزرگ کمال کے حسین ، گریس فل نظر آئے۔

ترک بابے دل آویز پرسنالیٹی رکھتے ہیں۔ تمتاتی سرخ وسپید رنگت، سر کے سفید بال ، ٹرائوزر نما بیگی سی پینٹ ، شرٹ میں ملبوس استنبول اور دیگر شہروں کی گلیوں میں یہ بابے نظر آتے، سیاحوں کو دیکھ کر دلنواز مسکراہٹ دیتے اور خاموشی سے دھیرے دھیرے چلتے رہتے۔ دل بے اختیار انہیں گلے لگانے کا کہتا، زبان کا فرق البتہ آڑے آتا کہ استنبول جیسے بڑے کاسموپولیٹن شہر میں بھی انگریزی جاننے والے بہت کم ملتے۔ ترک اپنی زبان سے بڑی محبت کرتے ہیں اور ان کی زبان ہے بھی ایسی زرخیز اور شاندار کہ اسے سیکھنا چاہیے۔

پانچ چھ سال پہلے استنبول کے ساتھ غازی انتب اور شانلے عرفہ بھی جانا ہوا۔ اب یاد نہیں ان میں سے کون سا شہر شامی سرحد کے قریب تھا،غالباً عرفہ تھا۔ سرحد پر باڑ لگی تھی، ہمیں ترک بارڈر پولیس والوں نے اشارے سے بتایا کہ دور فلاں فلاں جگہوں پر دہشت گرد تنظیموں کے لوگوں نے اپنے اڈے بنائے ہوئے ہیں، اسی وجہ سے پولیس مستعد رہتی۔

غازی انتب میں ترک تاریخ کی اہم جنگ لڑی گئیں، جب ترکی کا وجود خطرے میں تھا، تب مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترک فوج اور ترک قوم نے اپنی آزادی کی جنگ لڑی، ان میں سے ایک معرکہ انتب شہر میں لڑا گیا، ترک سپاہیوں نے کمال مزاحمت کی اور حملہ آور غیر ملکی فوج کو قابض نہیں ہونے دیا۔ بعد میں اسی مناسبت سے کمال اتاترک نے اس شہر کو غازی انتب کہا۔

وہاں ایک تاریخی قلعہ ہے جہاں جنگ لڑی گئی۔ اچھی خاصی چڑھائی کے بعد پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم نے اپنے ایک دانا ہم سفر کے مشورے کو درخوراعتنا نہ سمجھتے ہوئے قلعے کو بچشم خود دیکھنے کی ٹھانی اور اس رات اپنی پنڈلیوں میں پڑی کھلیوں اور اینٹھن کو سہلاتے ہوئے خود کو کوسا۔ البتہ قلعہ کی طرف جاتے ہوئے گلیوں میں چھوٹے چھوٹے فوڈ سٹالز پر مقامی ترک لوگوں کو بیٹھا دیکھ کر اچھا لگا۔

ایک جگہ کچھ لینے کے لئے رکنا پڑا ، دیکھا تو ایک بزرگ ہاتھ میں پتلی سی پیزا نما روٹی کا رول کا ایک لقمہ لیتے ، ساتھ رکھی لمبی اور موٹی سی سبز مرچ کو کترتے اور پھر سامنے رکھے ترک لسی آرین کا گھونٹ بھرتے ۔بعد میں پتہ چلا کہ یہ ڈش لحم چون یا لحم جون ( Lahmacun)کہلاتی ہے۔ اس میں پتلی سی روٹی کے اوپر قیمہ ، سرخ مرچ کی چٹنی وغیرہ کا لیپ لگا دیا جاتا ہے اور پھر اسے اوون میں پکا کر پتلی سی کرسپی لحماچون بنا لی جاتی ہے، قیمہ والا نان ذائقے اور شکل میں ایسا نہیں ،مگر قریب ترین یہی مثال ذہن میں آتی ہے۔ ترک اسے پیزے سے قدیم ڈش کہتے ہیں۔ یہ خاصی مقبول ہے اوربہت جگہوں پر مل جاتی ہے۔ ترک لسی کو آئرن (Ayran)کہتے ہیں، نمکین ذائقے والی مزے دار۔ ہر فوڈ سٹال پر یہ مل جاتی۔
انتب کی طرح عرفہ شہر کو بھی ترک جنگ آزادی کے دوران اس کے مکینوں کی بے مثال مزاحمت اور شجاعت کے نتیجے میں شانلے عرفہ یعنی شان والا عرفہ کہا گیا۔ شانلے عرفہ بڑا تاریخی شہر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ وہ جگہ موجود ہے جہاں روایات کے مطابق عظیم پیغمبر پیدا ہوئے، چھوٹی سی جگہ تھی جہاں لوگ جھک کر داخل ہوتے اور وہاں دعائیں مانگتے۔ اوپر کسی نامانوس زبان میں چند سطریں لکھی تھیں، جن کا مفہوم تھا کہ جو بھی یہاں آئے گا، وہ اگر رنجیدہ بھی ہوا تو ان شااللہ مسرور اور خوش ہو کر جائے گا۔

قریب ہی وہ جھیل ہے جسے “مقدس مچھلیوں والی جھیل” کہا جاتا ، ترکی زبان میں شائد اسے بالخلی گل کہتے ہیں۔ روایت کے مطابق جب ظالم مشرک بادشاہ فرعون نے حضرت ابراہیم کو پہاڑ کی چوٹی سے منجیق کے ذریعے آگ کے بہت بڑے الائو میں بطورسزا پھینکا تو اللہ کی قدرت سے وہ آگ گلزار بن گئی، نیچے پانی کا تالاب بن گیا اور پھر جو گولے اوپر سے پھینکے جاتے، وہ مچھلیاں بن جاتیں۔ ہمیں مقامی گائیڈ نے بتایا کہ ان مچھلیوں کا شکار صدیوں سے ممنوع ہے اور سیاح انہیں روٹی وغیرہ ڈال کر دعا مانگا کرتے ہیں۔ اس جگہ کی اپنی خوبصورتی اور تقدس ہے۔

شہر سے باہر کچھ ہی دور ایک اور پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کی نشانیاں بھی ہیں۔ صبر ایوبی مشہور ہے، اسی مناسبت سے اس مزار کے اوپر حضرت ایوب صابر لکھا تھا۔ حضرت ایوب بہت شدید بیمار ہوگئے تھے،ایک ایسا مرض لاحق ہوا کہ جسم کے زخموں میں کیڑے پڑ گئے، طویل عرصہ آپ نے صبر اور شکر سے یہ مشکلات کاٹیں اور پھر اللہ کے حکم سے ایک کنوئیں کے پانی سے نہائے تو وہ جسمانی امراض بالکل ختم ہوگئے۔

وہ پرانا کنواں بھی موجود تھا جہاں سے روایت کے مطابق جناب ایوب صابر علیہ السلام نہائے تھے۔ اب وہ کنواں تو بند ہے ، البتہ کچھ ہی دور پانی کی ٹینکی اور ٹونٹیاں لگی تھیں۔ بتایاگیا کہ کنوئیں کا پانی زیرزمین پائپ کے ذریعے اس ٹینکی میں لایا جاتا ہے۔ لوگ تبرک کے طور پر پانی بھر کے لے جاتے۔ اپنے ساتھیوں کا تو پتہ نہیں، البتہ پانی کی ایک بوتل خاکسار تو بھر کر لاہور لے آیا تھا۔
ترکیہ کا پہلا سفر بارہ تیرہ سال پہلے کیا تھا، تب ایک ترک فورم نےاس کا اہتمام کیا، وہ دنیا کے مختلف ممالک سے ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں کو ترکی ، وہاں کے کلچر اور ترقی وغیرہ سے متعارف کراتے۔ پاکستان سے اس سفر میں ہم جناب مجیب الرحمن شامی، عطا الحق قاسمی کی زیرقیادت گئے، روف طاہر مرحوم اور پچاس منٹ پروگرام فیم عبدالروف بھی تھے۔ محترم الطاف حسن قریشی نے بھی جانا تھا، مگر وہ کسی وجہ سے نہیں جا پائے۔ شامی صاحب اور قاسمی صاحب کے ساتھ گزرے کئی دنوں میں بہت فائدہ ہوا۔ شامی صاحب سے طویل گپ شپ کی نشستیں ہوئیں، عطا الحق قاسمی صاحب کی شگفتہ مزاجی اور لطائف سے بہت لطف اندوز ہوئے۔

استنبول میں ہوٹل کا ناشتہ مجھے ہمیشہ بہت مزے کا لگا۔ اس کا مفت ہونا بھی پرکشش بات ہے، مگر اس میں ورائٹی بہت زیادہ تھی۔ سب سے زیادہ مجھے ترک پنیر اچھا لگا۔ پہلے دن جب صبح ناشتے کے لئے پہنچا تو انواع واقسام کے پنیر دیکھ کر سرائیکی اصطلاح کے مطابق وِبھل گیا یعنی بوکھلا گیا۔ ہم تو ہیپی کاو پنیر کے تکونی ٹکڑوں اور چیز سلائسز کے عادی تھے یا پزے کے لئے موزریلا چیز ۔ وہاں پر تو دس بارہ اقسام کا پنیر دستیاب تھا، ان میں گوٹ پنیر بھی تھا جو شائد نسبتاً زیادہ مہنگا تھا۔

ہمیں جاننے والے تو جانتے ہیں، جو نہیں جانتے انہیں بتلا دیں کہ ایسے مواقع پر ہم تہذیب وشائستگی کا مرقع بن جاتے ہیں۔ ہر چیز کھاتے ہیں مگر نہایت سلیقے اور ہوشیاری کے ساتھ ۔ پتہ نہ چلے کہ بندہ زیادہ کھانے والا ہے۔ پلیٹ میں ایک دو چیزیں رکھیں اور باقی چلتے پھرتے ہڑپ کر لیں۔ پنیر، ساسیجز، مشروم،ابلے انڈے، میکسیکن آملیٹ، ٹوسٹر سے سکھے ہوئے سلائس ، خشک فرنچ بریڈ، تلوں والے بیگل، مختلف اقسام کے زیتون، بیریز وغیرہ وغیرہ ۔(اس وغیرہ کو دس بارہ بار لکھا تصور کریں۔ )

تجربے نے ہمیں یہ بھی سکھا دیا تھا کہ ناشتے کے لئے دوسروں سے جلدی پہنچ جایا جائے ، اس سے آپ کے پاس “عدل جہانگیری ” کے لئے مناسب وقت مل جاتا ہے اور آپ ہر خاص وعام شے سے انصاف برت سکتے ہیں۔
ترک ناشتے کی خاص چیز ترک چائے ہے جو ہمیں تو دیکھنے میں قہوہ ہی لگتی اور ہم نے اسے قہوہ ہی قرار دیا۔ ہم تو چائے سے مراد ایسی تیز پکی ہوئی دودھ پتی چائے ہی مراد لیتے ہیں جو پہلے گھونٹ سے چودہ طبق روشن کر دے۔ ترک چائے مگر دودھ کے بغیر ہوتی ہے، اس میں ہلکی تلخی یا کڑواہٹ بھی ہے جس کا ذائقہ ایک دو بار پینے کے بعد بھلا لگتا ۔ طریقہ یہ تھا کہ گرم پانی کا کنٹینر یا ماڈرن ڈرم سا پڑا ہوتا، اس سے ترک چائے کے مخصوصے تنگ سے کپ میں آدھا گرم پانی ڈال لیا اور پھر دوسرے کنٹینر سے سرخی مائل ترک چائے ڈال لی۔

یوں ایک مزے دار قہوہ نما مشروب بن جاتا، جی چاہے تو چینی کی کیوب بھی ڈال لئے۔ ہم اس بدعت کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ میٹھا کھانا ہی ہے تو کیوں نہ بقلاوہ ٹائپ مٹھائی کھائی جائے یا کچھ اور بہت مزے کا ، یوں چینی کے کیوب ہڑپ کر کے بے لذت گناہ کیوں اٹھایا جائے۔

استنبول کے فسوں ساز ماحول میں بہت بار ترک چائے کے جرعے انڈیلے اور خوب لطف اٹھایا۔ اس کی ترغیب قاسمی صاحب سے ملی جو بقول انکے استنبول چودہ پندرہ بار آ چکے تھے، ہر جگہ اتنی بار دیکھ رکھی تھی کہ اب کشش ختم ہوگئی، وہ توپ کاپی پیلس یا ایسی کسی تاریخی جگہ جانے کے بجائے پرانے استنبول کے سحرانگیز بازاروں اور قدیمی گلیوں میں کسی جگہ پر بیٹھ کر سستانے اور ترک چائے کا کپ پینے کو ترجیح دیتے ۔

اسی سفر میں اندازہ ہوا کہ قاسمی صاحب خیر سے روزانہ تین چار گھنٹے اپنے دوستوں سے گپ شپ نہ کر لیں تو انہیں اطمینان قلب نہیں ملتا۔ وہ مزے سے ترک سم پر پیکیج کرا کر لاہور کے دوستوں سے گپیں لگاتے، قہقہے لگاتے اور شگفتہ جملے بول کر انہیں بھی ہنساتے۔ تب واٹس ایپ عام نہیں تھا ، کالز مہنگی پڑتیں، مگر قاسمی صاحب اس کی پروا نہ کرتے۔ ایسا خوش دل ، وضع دار اور شگفتہ مزاج ہم سفر کسی نصیب والے کو میسر ہو گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں