اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) کا کہنا ہے کہ، غزہ میں خوراک کی ترسیل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، لیکن یہ امداد ناکافی ہے۔
ادارے نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ، شمالی، وسطی اور جنوبی سرحدی راستوں سے روزانہ کم از کم 100 امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی جائے۔
WFP نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ، 21 مئی سے جب سرحدی راستے جزوی طور پر امداد کے لیے کھولے گئے، تب سے ٹیمیں درجنوں امدادی قافلے بھیجنے میں کامیاب ہوئی ہیں، تاہم اب تک پہنچائی گئی خوراک دو ملین سے زائد کی آبادی کی بقا کے لیے “انتہائی معمولی مقدار” ہے۔
ادارے کے حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ، تقریبا ہر تین میں سے ایک شخص کئی کئی دن بھوکا رہنے پر مجبور ہے۔ مزید یہ کہ، انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن کی رپورٹ (IPC) کے مطابق، غزہ میں جنگ جاری رہنے اور امدادی اداروں کے لیے کام کرنے کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہنے کی صورت میں قحط کے شدید خطرات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال مئی سے ستمبر کے دوران تقریبا4 لاکھ 70 ہزار افراد کو تباہ کن سطح کی بھوک کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ، جنگ سے پہلے کے مقابلے میں آٹے کی قیمت 3,000 گنا بڑھ چکی ہے اور کھانے کا تیل مکمل طور پر نایاب ہو چکا ہے۔