امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کی توقع ہے، تاہم دونوں ممالک نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں فریقین نے بدھ کے روز شرکت کا اشارہ دیا ہے۔ موجودہ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی اپنی مدت مکمل کرنے کے قریب ہے، جس کے باعث صورتحال حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر محمد باقر قالیباف مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ تاہم ایرانی حکومت یا سرکاری میڈیا نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے منگل کو اپنے نشریاتی پیغام میں کہا کہ “اب تک کوئی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا”، جس سے مذاکرات کے وقت اور حتمی صورتحال پر ابہام برقرار ہے۔
موجودہ جنگ بندی 8 اپریل سے نافذ ہے اور بدھ کے روز اس کی مدت ختم ہونے والی ہے۔ اگر مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں تو امکان ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے۔
دوسری جانب دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “بڑی بمباری” شروع ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران کی جانب سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کے پاس ایسے “نئے حربے” موجود ہیں جو ابھی تک استعمال نہیں کیے گئے۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔
اسی دوران امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کی تحویل میں لینے کے واقعے نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ تہران نے اس اقدام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے۔