جنگ بندی میں توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران ایک ‘متفقہ تجویز’ پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر امریکا نے ایران پر حملے کو مؤخر کر دیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی اور امریکی فوج ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار رہے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی اپنی مقررہ مدت کے اختتام کے قریب تھی۔ ابتدا میں اس کی مدت 21 اپریل تک تھی، بعد میں اسے بڑھایا گیا، اور اب اسے مزید توسیع دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں دونوں فریق ایک جامع اور مستقل امن معاہدے تک پہنچ سکیں گے۔

ادھر ایران کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ تہران مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکا کے اقدامات، جن میں ایرانی جہازوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں، مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا متوقع دورہ مؤخر ہو گیا ہے اور وہ آج اسلام آباد نہیں پہنچ رہے۔

پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات کے دوران امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں اور مکالمے کو موقع دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں