پاکستان میں خواتین کے حقوق اور ان کے مسائل پر گفتگو کوئی نئی بات نہیں، مگر 2018ء میں جب عورت مارچ کا آغاز ہوا تو یہ بحث ایک نئی شکل اختیار کر گئی۔ عورت مارچ کی ابتدا خواتین کے اجتماعی گروہوں نے پاکستانی #MeToo تحریک کے ساتھ متوازی طور پر کی، اور پہلا مارچ 8 مارچ 2018 کو کراچی میں منعقد ہوا۔ 2019 میں، لاہور اور کراچی میں ‘ہم عورتیں’ نامی تنظیم کے زیرِ اہتمام مارچ ہوا، جبکہ دیگر شہروں جیسے اسلام آباد، حیدرآباد، سکھر، پشاور، مردان، اور فیصل آباد میں ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ ،وومنز ایکشن فورم اور دیگر تنظیموں نے اس کی میزبانی کی۔
1975 میں اقوام متحدہ کے 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین قرار دینے کے بعد سے یہ دن ہر سال ایک منفرد تھیم کے ساتھ منایا جاتا یے جو فیمینزم تحریک کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی عورت مارچ ہر سال ایک مخصوص بین الاقوامی یومِ خواتین کے تھیم کے مطابق منعقد کیا جاتا رہا ہے، جس کے تحت ایک منشور بھی ترتیب دیا جاتا ہے۔ 2018 کے عورت مارچ کا تھیم "برابری” تھا، جبکہ 2019 کا تھیم "بہن چارہ اور یکجہتی” رکھا گیا۔ 2020 کے مارچ میں "خودمختاری” اور "تشدد” (جنسی اور معاشی) کے موضوعات پر توجہ دی گئی۔ لاہور میں 2021 کے مارچ کا تھیم "عورتوں کی صحت کا بحران” تھا، جس میں کووڈ-19 کے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ 2022 میں لاہور کے منشور کا تھیم "اصل انصاف” تھا، جس کا مقصد ریاست اور سماج میں عدالتی اصلاحات پر زور دینا تھا۔ 2023 کے عورت مارچ کا تھیم "غربت اور اس کے خواتین اور سماج پر اثرات” تھا، جبکہ 2024 کے مارچ میں "خواتین کے لیے معاشی انصاف، صنفی بنیادوں پر تشدد کا خاتمہ، جبری گمشدگیوں اور عالمی امن” جیسے موضوعات شامل کیے گئے۔ لیکن بد قسمتی سے ہر سال پاکستان میں اس منشور کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور بحث صرف نعروں اور اندازِ احتجاج پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
لیکن اس سال حالات کچھ محتلف نظر آرہے ہیں۔ میرے خیال سے وقت گزرنے کے ساتھ عورت مارچ کے منتظمین کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کے نعرے اور احتجاجی انداز بعض حلقوں میں مخالفت اور تنازعات کو جنم دے رہے ہیں جس کے باعث اصل مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ شاید اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ نے اس سال مارچ کو عورت مارچ کے بجائے "بہنوں کی بیٹھک” کے نام سے متعارف کرایا ہے۔ اگرچہ منتظمین نے اس تبدیلی کی وجوہات پر واضح طور پر بات نہیں کی، لیکن اس کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق پر بات چیت کو زیادہ موثر اور سماجی و ثقافتی حساسیت کے مطابق بنانا ہے۔
"بہنوں کی بیٹھک” نے ایک نرم انداز اپنایا ہے، جو پاکستانی معاشرتی اقدار سے زیادہ ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے مکمل یقین سے بات کرنا کہ اس نئے نام کو اپنانے کا مقصد ایک نئے طرز سے تحریک چلانا ہے ، قبل از وقت ہو گا۔ اس مارچ کے حوالے سے ابھی تک کوئی خاص نعرے یا بیانیہ منظر عام پر نہیں آیا جوغیر ضروری تنازعات سے بچتے ہوئے خواتین کے اصل مسائل کو اجاگر کر سکے۔ 8 مارچ کوہونے والی بہنوں کی بیٹھک میں ہی پتہ چلے گا کہ کیا وہ کسی نئے طرز عمل کو اپنا رہے ہیں جو زیادہ وسیع حلقوں کو قائل کر سکے یا وہی پرانے طریقے اس سال بھی ہوں گے۔
یہ بات تو واضع ہے کہ اگر خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا ہے تو ہمیں ایسی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی جو مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جائے۔ اس کی بہترین مثال پاکستان میں کام کرنے والی کچھ تنظیمیں ہیں، جیسے "شی میٹرز” خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں، جبکہ ‘نیشنل ویمن انٹرپرینیور ایوارڈز’ جیسے اقدامات کے ذریعے کاروباری خواتین حاص طور پر ینگ سٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی عالمی اقدامات بھی خواتین کی معاشی ترقی کے لیے متحرک ہیں۔ "ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سسٹم” خواتین کو گھریلو کاروبار سے تجارتی سطح پر لانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ "خدیجہ – دی ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام” خواتین کو سرحد پار تجارت میں شرکت کے لیے تربیت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ” پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین کو ملازمت کے فروغ” کا منصوبہ نجی اور سرکاری شعبے کے ساتھ مل کر صنفی برابری کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شراکت داری کے لحاظ سے بھی متعدد تنظیمیں خواتین کی ترقی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم "یو این ویمن پاکستان” نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے صنفی مساوات کو فروغ دیتی ہے، جبکہ "کشف فاؤنڈیشن” کم آمدنی والی کاروباری خواتین کے لیے مائیکرو پنشن پلان متعارف کروا چکی ہے۔ اس کے علاوہ کشف فاؤنڈیشن نے خواتین کی زیرِ قیادت انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ایک جینڈر بانڈبھی جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ سٹارٹ اپس بھی خواتین کے لیے معاشی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ‘کٹی کٹائی’ ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے جو پہلے سے کٹے ہوئے پھل اور سبزیاں فروخت کرتا ہے اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہے روزگار فراہم کرنے کے علاوہ بھی خواتین کے کئی حقوق ہیں ، اور اس حوالے سے ابھی تک حاطر خواں انتظامات نہیں کیے جا سکے۔ یوم خواتین پر مارچ کا انتظام کرنے والے منتظمین کو اب انتشار پیدا کرنے والے عوامل سے نکل کر ، اس طرف توجہ دلانی چاہیے۔اس کے لیے ایک منظم اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ تنازعات سے بچتے ہوئے اگر خواتین کے مسائل کو بہتر اور مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے تو زیادہ افراد ان مسائل کو سننے اور ان پر غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔