جو افراد ہفتے میں کم از کم 3 بار تلے ہوئے آلو کھاتے ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ 20 فی صد زیادہ ہوتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے “پی اے میڈیا” کے مطابق محققین نے دریافت کیا ہے کہ اگر یہی آلو ابال کر، بیک کر کے یا میش کر کے کھائے جائیں تو ان سے ذیابیطس کے خطرے میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔
بین الاقوامی سطح پر محققین کی ایک ٹیم نے امریکا میں شعبہ صحت سے وابستہ دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کی صحت کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا۔
مجموعی طور پر تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اُبلے، بیک کیے گئے یا میش کیے گئے آلو کھانے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ نہیں ہوتا۔ لیکن جو افراد ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ تلے ہوئے آلو کھاتے ہیں، ان میں یہ خطرہ 20 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ہفتے میں تین حصے آلو کے بجائے مکمل اناج (ہول گرینز) کا استعمال کیا جائے تو ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے میں 8 فی صد تک کمی آ سکتی ہے۔