فرانس کے صدر، ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق پیش کیے گئے منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ، 20 لاکھ فلسطینیوں سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ، وہ اپنے وطن سے کہیں اور چلے جائیں۔
میکرون کا کہنا تھا کہ، فلسطینیوں اور ان کے عرب پڑوسیوں کی عزت و احترام کا خیال رکھا جانا چاہیے، اور اس نوعیت کے منصوبے کو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کی طرح نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے ایک سیاسی معاملہ سمجھا جائے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم، بنجمن نیتن یاہو سے اپنے اختلافات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ، وہ سویلینز کو نشانہ بنانے والے بڑے آپریشن کو درست نہیں سمجھتے۔ میکرون نے یہ بھی بتایا کہ، غزہ کی جنگ پر ان کے اسرائیلی ہم منصب سے مسلسل اختلافات رہے ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر، ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ، جنگ کے بعد غزہ کی پٹی اسرائیل کے ذریعے امریکا کے حوالے کر دی جائے گی، اور وہاں کی تعمیر نو کی جائے گی، مگر غزہ کے لوگوں کو طویل عرصے تک واپس آنے کا حق نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔