ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں معروف صوفی شاعر اور فلسفی مقطمقلی فراگی کی پیدائش کی تین صدیاں مکمل ہونے پر ایک عالمی فورم کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ عالمی ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور امن کو فروغ دینے کی غرض سے منعقد کی گئی۔ اس تاریخی موقع پر کئی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔

فورم کی افتتاحی تقریب ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف کی صدارت میں ہوئی، جس میں انہوں نے فراگی کی فکری عظمت اور صوفیانہ وراثت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، فراگی کی تخلیقات قوموں کو جوڑنے، امن و سلامتی کے پیغام کو عام کرنے، اور انسانی اقدار کی عظمت کو اُجاگر کرنے کی ایک لازوال مثال ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فراگی کی شاعری اور فلسفہ آج بھی ترکمان عوام کے دلوں میں زندہ ہے

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے خطاب میں کہا فراگی کی تخلیقی عظمت نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ عالمی ادب میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ ازبک عوام کے دلوں میں فراگی کے لیے بے پناہ احترام ہے، اور ان کی فکر آج بھی انسانیت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فراگی کا پیغام امن اور بھائی چارے کی علامت ہے، جسے ازبکستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی فورم کے شرکاء سے خطاب کیا، اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال اور فراگی کے مشترکہ نظریات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا اقبال اور فراگی کی شاعری میں قومیت اور تصوف کے مشترکہ خیالات ہی انہیں عظیم شاعر بناتے ہیں۔ زرداری نے زور دیا کہ اس فورم کے ذریعے عالمی روحانی وراثت کو فروغ ملے گا اور مختلف قوموں کے درمیان قربت میں اضافہ ہوگا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا فراگی محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عظیم انسان تھے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قوم پرستی اور انسان دوستی کے جذبات کو اُبھارا۔ ان کی فکر کی شمع آج بھی روشن ہے اور کئی نسلوں تک رہنمائی کا ذریعہ بنی رہے گی۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے فراگی کے صوفیانہ پیغام کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ فراگی کی شاعری نے محبت، امن اور روحانی بیداری کو فروغ دیا، جو آج کے دور میں بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی صدیوں پہلے تھی۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے فراگی کی تخلیقات کو خطے کی تاریخ اور ثقافت کا قیمتی اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ فراگی کا فلسفہ آج کے نوجوانوں کو اپنی ثقافت اور تاریخ سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فورم میں نہ صرف ادبی اور فلسفیانہ مباحثے ہوئے بلکہ مختلف ممالک کے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں نے بھی شرکت کی، جنہوں نے فراگی کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اس موقع پر متعدد فلمی منصوبے بھی متعارف کرائے گئے جو فراگی کی زندگی اور افکار پر مبنی ہیں۔ فورم میں مختلف کانفرنسز، ادبی محافل، اور فلمی تقریبات کا انعقاد کیا گیا تاکہ فراگی کی عظمت کو عالمی سطح پر اُجاگر کیا جا سکے۔

فورم کا اختتام مہمانوں کو یادگاری تمغے دینے سے ہوا، مختلف ممالک سے 20 لوگوں کو سونے کے تمغے سے نوازا گیا۔ ترکمانستان کے قومی رہنما اور خلق مجلس کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف نے باوقار انداز میں یہ تمغہ ازبک صدر کو پیش کیا۔ اس تاریخی فورم نے عالمی ثقافتوں اور اقوام کے درمیان امن، محبت اور صوفیانہ ورثے کے پیغام کو نئی جہتوں سے اجاگر کیا، اور یہ تقریب خطے میں بین الاقوامی افہام و تفہیم کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔