ازبکستان میں کتب بینی کا فروغ حکومتی پالیسی کا حصہ بن گیا، نیا قومی پروگرام شروع

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے ملک بھر میں کتاب پڑھنے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے قومی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تقریب دارالحکومت تاشقند کے انٹرنیشنل کانگریس سینٹر میں منعقد ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرزائیوف نے کہا کہ ازبکستان میں کتاب دوستی اور مطالعے کے فروغ کو حکومتی پالیسی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتابیں قوم کے مستقبل، نوجوانوں کی تربیت اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس سال ایک نئی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت بہترین قارئین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ “ینگ بک لوور” مقابلے کے قومی مرحلے میں ملک بھر سے 42 نوجوانوں نے حصہ لیا، جبکہ تین نمایاں کامیاب افراد کو جدید گاڑیاں انعام میں دی گئیں۔

صدر مرزائیوف نے متحدہ عرب امارات کے “عرب ریڈنگ چیلنج” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ازبکستان بھی مطالعے کے کلچر کو مزید فروغ دینے کے لیے اسی طرز پر اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے “نیشنل ریڈنگ موومنٹ” کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے سالانہ 2 لاکھ 40 ہزار ڈالر کی انعامی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ فاتح کو 50 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔

یہ پروگرام ملک بھر کے اسکولوں میں پہلی سے گیارہویں جماعت تک کے طلبا کے لیے ہوگا۔ صدر نے طلبا، والدین اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں