"دھرمیندر جی، آپ کوئی بھی کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن پھر ہیما مالنی نہیں ملے گی”، فلم شعلے کے ہدایتکار کا انکشاف

بالی وڈ کی تاریخ ساز فلم ‘شعلے’ نے 15 اگست کو اپنی ریلیز کے پچاس سال مکمل کر لیے۔ یہ فلم اپنے لازوال کرداروں اور یادگار مکالموں کی وجہ سے آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہے۔ اس میں امیتابھ بچن، دھرمیندر، جیا بچن، ہیما مالنی، سنجیو کمار اور امجد خان نے اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔

ہدایتکار رمیش سپی نے فلم کے حوالے سے کئی دلچسپ واقعات بیان کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیما مالنی ابتدا میں "بسنتی” کا کردار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی تھیں کیونکہ وہ "سیتا اور گیتا” جیسی فلم کر چکی تھیں۔ تاہم، سپی نے انہیں یقین دلایا کہ یہ کردار منفرد اور اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فلم کے آخر میں بسنتی کا رقص، جب وہ پتھروں اور شیشے کے ٹکڑوں پر ناچتی ہیں، ان کے کردار کی اصل طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

ہدایتکار نے مزید انکشاف کیا کہ دھرمیندر دراصل گبّر سنگھ کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اسے بے حد دلچسپ سمجھتے تھے۔ انہوں نے ٹھاکر کے کردار میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی۔ لیکن رمیش سپی کے مطابق، اگرچہ دھرمیندر کسی بھی کردار میں بہترین لگ سکتے تھے، مگر گبّر کے روپ میں امجد خان نے جو تاثر قائم کیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔
ڈائریکٹر کے مطابق، انہوں نےدھرمیندر سے کہا کہ”دھرمیندر جی، آپ کوئی بھی کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن پھر ہیما مالنی نہیں ملے گی۔”

دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ سنجیو کمار بھی گبّر کا کردار کرنے کے خواہشمند تھے، مگر آخرکار سبھی فنکاروں نے اپنے اپنے کرداروں کو بخوبی قبول کیا اور ان پر پورا انصاف کیا۔

ہیما مالنی نے ماضی میں ایک انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی اور دھرمیندر کی آف اسکرین محبت نے فلم میں بسنتی اور ویرو کے رشتے میں خاص جان ڈال دی۔

یوں شعلے نہ صرف اپنی شاندار کہانی اور مکالموں بلکہ ہر کردار کی جاندار پیشکش کی وجہ سے بالی وڈ کی سب سے بڑی فلم کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں