فیفا کے صدر، جیانی انفانٹینو نے افغان مہاجر خواتین فٹبال ٹیم کے لیے آسٹریلیا میں منعقدہ پہلے ٹیلنٹ کیمپ کو ایک ’اہم قدم‘ قرار دیا ہے۔
فیفا کے مطابق، یہ کیمپ گزشتہ ماہ سڈنی میں منعقد کیا گیا، جو اس نوعیت کے تین عالمی ٹیلنٹ شناختی کیمپوں میں سے پہلا ہے۔ ان کیمپس کا مقصد رواں سال بین الاقوامی دوستانہ میچوں کے لیے افغان خواتین کی 23 رکنی ٹیم تیار کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی کئی کھلاڑیوں نے ملک چھوڑ دیا تھا کیونکہ انہیں انتقامی کارروائیوں کا خدشہ تھا۔ ان کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کوالیفائنگ مقابلوں سے بھی باہر رکھا گیا تھا اور وہ دوبارہ بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کے حق کے لیے کوشاں رہی ہیں۔
طالبان کے زیرِ کنٹرول افغان فٹبال فیڈریشن نے خواتین کی کھیلوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے ان خواتین کی بین الاقوامی شناخت اور شرکت کا راستہ بند ہو گیا۔ طالبان کا مؤقف ہے کہ، وہ خواتین کے حقوق کو اسلامی قانون اور مقامی روایات کے مطابق تسلیم کرتے ہیں، اور ایسے معاملات مقامی سطح پر ہی حل کیے جانے چاہئیں۔
تاہم، رواں سال مئی میں ایک امید کی کرن اس وقت نظر آئی جب فیفا نے افغان مہاجر خواتین ٹیم کے قیام کی منظوری دی اور سابق اسکاٹش بین الاقوامی کھلاڑی، پولین ہیمل کو کوچ مقرر کیا۔ اس نئی ٹیم کا پہلا کیمپ 23 سے 29 جولائی تک سڈنی میں ہوا۔
پولین ہیمل نے فیفا کی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ،یہ دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے کہ، یہ کھلاڑی یہاں موجود ہیں۔ اب ہمیں ان کے ساتھ کام کرنے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے، اور وہ سب ایک ایسے ماحول میں اکٹھی ہو رہی ہیں جس کا وہ ہمیشہ سے حصہ بننا چاہتی تھیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ، یہ ایک غیرمعمولی منصوبہ ہے۔ اس نے ان کھلاڑیوں کو دوبارہ ایک ساتھ کھیلنے اور یادیں بنانے کا موقع دیا ہے۔ ٹیم کے ساتھ ایسی یادیں بنانا واقعی خاص ہوتا ہے۔
فیفا کو امید ہے کہ ان ٹرائلز میں شامل کھلاڑی رواں سال کے اختتام پر ہونے والے منظوری شدہ دوستانہ میچوں میں حصہ لے سکیں گی، جس سے افغان خواتین کی فٹبال ٹیم کی بین الاقوامی سطح پر واپسی ممکن ہو گی۔
فیفا کا کہنا ہے کہ ،وہ ان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے آلات، مقامی کلبوں سے روابط، نفسیاتی مشاورت، میڈیا و سوشل میڈیا تربیت، تعلیمی مواقع اور کھیل کے شعبے میں مستقبل کے امکانات کی فراہمی میں بھی مدد فراہم کرے گا۔
فیفا کے صدر انفانٹیو نے کہا کہ، مجھے یقین ہے کہ، ہم نے ان خواتین کو بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کا موقع فراہم کر کے ان کی حفاظت اور فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے درست سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ،ہم اس پائلٹ منصوبے کو شروع کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، اور ہمارا مقصد ہے کہ، آئندہ اسے دیگر ممالک کی خواتین تک بھی وسعت دی جائے۔
الجزیرہ کے مطابق، جولائی کے کیمپ میں شامل ایک کھلاڑی نیلاب نے کہا کہ، فٹبال نے ان کی زندگی میں مثبت اثرات ڈالے ہیں۔ میرا ہدف صرف میرے لیے نہیں، بلکہ پورے افغانستان، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے ہے۔ یہ منصوبہ ہمیں سیکھنے، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور افغانستان کی نمائندگی کرنے کے طریقے سکھاتا ہے۔