گزشتہ 25 برسوں میں مہلک متعدی امراض جیسے ہیضہ، ایبولا اور خسرہ کے پھیلاؤ کے دوران کی جانے والی ہنگامی ویکسینیشن مہمات کے مثبت اثرات پر مبنی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان اقدامات کی بدولت اموات میں تقریبا60 فیصد تک کمی ممکن ہوئی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ، اتنی ہی بڑی تعداد میں ممکنہ انفیکشنز کو بھی روکا جا سکا، جس سے نہ صرف لاکھوں جانیں بچیں، بلکہ عالمی معیشت کو بھی اربوں یورو کا فائدہ پہنچا۔
یہ تحقیق ‘گیوی ویکسین الائنس’ کے اشتراک سے کی گئی، جس میں آسٹریلیا کے ‘برنیٹ انسٹیٹیوٹ’ کے محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ، ہنگامی ویکسینیشن نے عالمی صحت عامہ پر کس حد تک اثر ڈالا۔ گیوی کی سربراہ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس موقع پر کہا کہ، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ، انسانی زندگیوں اور معیشت دونوں پر ویکسینیشن کے اثرات کو جامع انداز میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ، ویکسین کس طرح کم خرچ میں وباؤں کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کا مؤثر ذریعہ بنتی ہیں۔
یہ تحقیق معروف برطانوی طبی جریدے ’بی ایم جے گلوبل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئی ہے، جس میں سال 2000 سے 2023 کے دوران 49 کم آمدنی والے ممالک میں پیش آنے والی 210 متعدی بیماریوں کی وباؤں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان بیماریوں میں ہیضہ، ایبولا، خسرہ، میننجائٹس اور یلو فیور شامل تھے۔
تحقیق کے مطابق، ان ممالک میں کی گئی ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں ان بیماریوں کے کیسز اور اموات میں اوسطا60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کچھ امراض میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ رہی۔ مثلاً یلو فیور کے دوران اموات میں 99 فیصد اور ایبولا کے دوران 76 فیصد کمی دیکھی گئی۔
تحقیق نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ، ہنگامی ویکسینیشن مہمات نے وباؤں کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ان اقدامات کے معاشی اثرات کا بھی تخمینہ لگایا گیا، جس کے مطابق، ان مہمات کی بدولت محض اموات اور معذوری سے بچائی گئی زندگیوں کی قدر میں ہی تقریبا32 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ، یہ تخمینہ حقیقی بچت سے کہیں کم ہے کیونکہ اس میں دیگر سماجی، اقتصادی اور ہنگامی ردعمل سے جڑے اخراجات کو شامل نہیں کیا گیا۔
تحقیق میں 2014 میں مغربی افریقہ میں ایبولا کی مہلک وبا کی مثال بھی دی گئی، جہاں کسی مؤثر ویکسین کی عدم موجودگی نے وبا کو عالمی سطح پر پھیلنے دیا اور صرف ان افریقی ممالک کو 53 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔