اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس تیزی سے اور وسیع پیمانے پر پھیل رہا ہے، جبکہ موجودہ وبا میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 500 سے تجاوز کر چکی ہے۔
قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سینیئر ایبولا کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس نے کہا کہ وبا پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسے قابو کرنے کے لیے فوری طور پر مزید فنڈز، طبی عملے اور وسائل کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ مالی وسائل چند ہفتوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں وبا شروع ہونے کے بعد سے اس پر قابو پانے کی کوششوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ مشرقی کانگو میں طویل عرصے سے جاری تنازع، حکومتی کنٹرول کی کمی اور کمزور بنیادی ڈھانچے نے امدادی اور طبی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
صحت کے کارکنوں اور طبی مراکز پر حملے بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران طبی عملے پر 260 سے زائد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں 8 ہیلتھ ورکرز ہلاک ہوئے۔ مزید 160 سے زیادہ طبی کارکن ایبولا کا شکار ہوئے، جن میں سے 43 کی موت ہو چکی ہے۔
وبا پر قابو پانے میں ایک اور بڑی رکاوٹ ایبولا وائرس کی نایاب بنڈی بگیو قسم ہے، جس کے خلاف فی الحال کوئی ثابت شدہ ویکسین موجود نہیں۔ بعض مقامی علاقوں میں غلط معلومات اور سازشی نظریات کی وجہ سے بھی طبی ٹیموں کو مزاحمت اور حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور وسیع ردعمل نہ دیا گیا تو ایبولا پڑوسی ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔ ادارے نے دور دراز علاقوں تک رسائی، مزید عملے کی تعیناتی اور اضافی وسائل کی فراہمی پر زور دیا ہے۔