امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نائیجیریا میں عیسائیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کا دعویٰ کرتے ہوئے زمینی یا فضائی کارروائی کی دھمکی دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئرفورس ون میں سوشل میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ اگر نائیجیریا نے مبینہ طور پر عیسائیوں کے خلاف ہونے والے حملے روکنے میں ناکامی دکھائی تو امریکہ "تیز” فوجی کارروائی کا حکم دینے کے لیے دفاعی محکمے کو ہدایات دے چکا ہے۔ ٹرمپ نے ممکنہ طور پر زمینی فورسز تعینات کرنے یا فضائی حملے کرنے کا اشارہ دیا، مگر کسی مخصوص منصوبے یا وقت کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ امریکا اب اس بدنام شدہ ملک (نائیجیریا) میں بھرپور ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہو جائے، تاکہ اُن دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے جو یہ ہولناک مظالم انجام دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ میں اپنے محکمہ جنگ کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دے رہا ہوں، اگر ہم حملہ کریں گے تو وہ تیز، بے رحم اور مزے دار ہوگا۔
گزشتہ روز بھی سوشل میڈٰیا پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے نائیجیریا میں مسیحی برادری کے خلاف ہونے والے مبینہ ’قتلِ عام‘ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا ’فوری طور پر نائیجیریا کو دی جانے والی تمام امداد اور تعاون بند کر دے گا، اور وہاں کی حکومت کو اقدامات کی وارننگ دی۔
نائیجیریا کی حکومت نے اس بیان کا نرم انداز میں ردعمل دیا اور کہا کہ وہ بین الاقوامی مدد پذیر ہے بشرطیکہ اس سے ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ صدر کے مشیر ڈینیئل بوالا نے کہا کہ نائیجیریا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا شراکت دار ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی معاونت کو ملک کے قوانین اور خودمختاری کے دائرے میں رہ کر انجام دیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ کے بیانات کے بعد واشنگٹن نے نائیجیریا کو دوبارہ اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جنہیں امریکہ "Countries of Particular Concern” کے طور پر دیکھتا ہے یعنی وہ ممالک جہاں مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیاں ہونے کا الزام ہوتا ہے۔ اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھایا ہے جبکہ کچھ نائیجیریائی عیسائی امریکی مداخلت کی حمایت بھی کر رہے ہیں