اپنی زندگی کو کیسے ڈسپلن کیا جائے

سب سے پہلے یہ سجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹائم مینجمنٹ ہے کیا؟

ٹائم مینجمنٹ کا مطلب ہے کہ اپنے وقت کو ایسے استعمال کیا جائے کہ ہمارے تمام ضروری کام بھی ہو جائیں اور فرصت کے لمحات بھی میسر آئیں۔

بنیادی طور پہ دن کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے

آٹھ گھنٹے کام
آٹھ گھنٹے نیند
آٹھ گھنٹے فرصت

فرصت کے لمحات جن میں کھانا کھاتے، نہاتے، آفس اور گھر کے درمیان ثریولنگ کرتے، فیملی کے ساتھ وقت گزارتے اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے ہیں اور ریلیکس ہوتے ہیں۔

ٹائم مینجمنٹ میں سب سے اہم یہ ہے کہ وقت کی یہ تقسیم درست رکھی جائے کام، آرام اور نیند کے حصوں میں سے کسی حصے کو ڈسٹرب یا قربان نا کیا جائے۔

اس کے بعد اہم بات یہ ہے کہ ہم ان آٹھ گھنٹوں کی تقسیم کو دن کے کون سے حصے میں استعمال کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کا جسمانی سسٹم ایسا بنایا ہے کہ دن کا وقت کام کاج کے لیے سوٹ ایبل ہے اور رات کا وقت نیند یا آرام کے لیے۔

ٹائم مینجمنٹ سیکھنے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ ہمارا دن کتنے بجے شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ کا دن دس گیارہ بجے شروع ہوتا ہے اس کے بعد آپ کے تقسیم بالکل ٹھیک ہے آپ آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں شام چھ یا سات بجے گھر آتے ہیں اور رات دو تین بجے سوتے ہیں تو آپ کو وقت کی قلت کا سامنا ہمیشہ رہے گا۔

اس لیے ٹائم مینجمنٹ کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنا دن جلدی شروع کریں۔ ہو سکے تو فجر کی نماز سے پہلے جاگیں اور اس کے بعد نا سوئیں۔ دن کے اس حصے کو ہم بہترین استعمال کر سکتے ہیں۔
مرد حضرات جو 9 بجے جاب پہ جاتے ہیں ان کے پاس صبح 5 سے 8 بجے کا وافر وقت ہو گا جس میں وہ بہت سے کام سر انجام دے سکتے ہیں واک اور ایکسرسائز کر سکتے ہیں۔

کوئی کتاب پڑھ سکتے ہیں
کوئی اہم فائل یا دستاویز پڑھی جا سکتی ہے
اہم ای میلز کا جواب دیا جا سکتا ہے۔

بزنس کے ڈیلز کے بارے میں کام کیا جا سکتا ہے یا گھر کے پیندنگ کام کیے جا سکتے ہیں۔

خواتین صبح سویرے واشنگ مشین لگا سکتی ہیں صفائی کر سکتی ہیں کپڑے استری کر سکتی ہیں اور بیشمار چھوٹے چھوٹے کام۔

اس کے بعد بچوں کو سکول کے لیے تیار کرنا اور سکول چھوڑ کے آنا۔

آدھے آدھے دن تک سونا ویسے ہی نحوست ہے سب سے زیادہ بے برکتی انہیں لوگوں کے وقت میں ہوتی ہے جو دن چڑھے تک سوتے ہیں۔

لیکن دوستو صبح پانچ بجے جاگنے کے لیے ضروری ہے کہ رات کو جلدی سویا جائے۔ کوشش کریں کہ حد سے حد دس گیارہ بجے تک سو جائیں۔

تمام ترقی یافتہ ممالک میں رات جلدی سونے اور صبح سویرے جاگنے اور کام شروع کر دینے کی روٹین ہے ہمارے یہاں رات بھر جاگنے اور دن چڑھے سونے کو ماڈرن ازم سمجھا جاتا ہے۔

جبکہ اگر ہم غور کریں تو رات دس بجے کے بعد جاگ کے ہم صرف وقت گزارتے ہیں کوئ کار آمد سرگرمی نہیں ہوتی کیونکہ سورج ڈھلنے کے بعد کے ہارمونز ہمیں نیند کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں کام میں سپورٹ نہیں کر رہے ہوتے جبکہ ہم ان سے لڑ کے انہیں اس طرف لے جا رہے ہوتے ہیں جس مقصد کے لیے انہیں تیار نہیں کیا گیا نتیجتاً ہمارا امیون سسٹم تباہ ہوتا ہے صحت خراب ہوتی ہے ویسے بھی دس بجے کے بعد کا وقت زیادہ تر سکرین ٹائم ہی ہوتا ہے جو بذات خود نقصان دہ ہے۔

جو نوجوان بچے بچیاں یہ کہتے ہیں ہم رات بھر اس لیے جاگتے ہیں کہ یکسو ہو کے پڑھ سکیں دن میں یکسوئی نہیں ہوتی وہ دن میں یکسو ہو کے سو کیسے سکتے ہیں اور اگر وہ دن میں نیند اچھی نیند نہیں لیں گے تو رات میں کیسے اچھا پڑھیں گے دراصل یہ سب غیر ضروری ہے اھر دن میں سویا جا سکتا ہے تو پڑھا بھی جا سکتا ہے۔

دوستو وقت میں برکت کا سب سے پہلا فارمولا تو یہ ہے کہ وقت کی تقسیم صحیح طور سے کی جائے سونے اور جاگنے کے اوقات صحیح رکھے جائیں صبح آٹھ بجے کے بعد نا سویا جائے دوپہر کو قیلولہ کی عادت اپنائی جائے کہ دو گھنٹے دوپہر میں سو گئے اور شام کو تاذہ دم ہو گئے خواتین آسانی سے ایسا کر سکتی ہیں مرد حضرات آفس سے واپس آ کے ایک چھوٹی سی نیپ لے سکتے ہیں یا پھر یہی کہ رات میں جلدی سوئیں۔

(جاری ہے)

(جویریہ ساجد کا تعلق رحیم یار کے ایک معروف علمی گھرانے سے ہے . انہوں نے اکنامکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ وہ معروف لکھاری، بلاگر اور ولاگر ہیں ۔جویریہ ساجد اپنے موضوع پر پوری ریسرچ کر کے قلم اٹھاتی ہیں، اسی وجہ سے سوشل میڈیا فورمز پر ان کی تحریروں کو بھرپور عوامی پزیرائی ملتی ہے).

Author

اپنا تبصرہ لکھیں