بلوچستان میں حالیہ حملوں میں 38 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران 38 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 54 دہشت گردہلاک ہوئے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے۔ ان کے مطابق پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب ہنہ اوڑک میں پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے مقامی آبادی پر حملہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی شہریوں نے بہادری سے مزاحمت کی، جس کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق، اس واقعے میں 4 شہری شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ دوسرا واقعہ زیارت کے علاقے منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 کی حفاظت پر مامور پولیس چیک پوسٹ پر پیش آیا، جہاں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک دہشت گردوں نے کئی اطراف سے حملہ کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ابتدائی کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ فوج اور فرنٹیئر کور کی کمک فوری طور پر روانہ کی گئی، تاہم ان کے پہنچنے سے پہلے دہشت گردوں نے کچھ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق زیارت کے پہاڑی علاقوں میں 6 جولائی سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہی، جس کے دوران مزید 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اس طرح زیارت واقعے میں شہید پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں اب تک 26 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جن میں ابتدائی طور پر چیک پوسٹ کے قریب مارے گئے 15 اور بعد میں تصدیق شدہ 11 دہشت گرد شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تیسرے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بیلہ اور وندر کے علاقے میں فوجی قافلے پر حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 11 فوجی جوان شہید ہوئے، جبکہ کالعدم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 14 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ خاران میں ایک کارروائی کے دوران 6 دہشت گرد، جبکہ دالبندین میں ایک اور کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ واقعات میں مجموعی طور پر 4 شہری، 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی جوان شہید ہوئے، جس کے بعد شہدا کی کل تعداد 42 بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں اب تک 54 دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اب بھی آپریشنز جاری ہیں، جہاں فوج، فرنٹیئر کور، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

اپنی پریس کانفرنس میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب انڈیا اور وہ تمام دشمن قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کا استحکام اور خوشحالی پسند نہیں ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ آپریشنز کے دوران مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر افغانستان کے شہری ہیں اور یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں