پرتگال فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 میں اسپین کے ہاتھوں 0-1 سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ اس کے ساتھ کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ سفر اختتام کو پہنچ گیا۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آرلنگٹن میں کھیلے گئے میچ میں اسپین کے میکل میرینو نے دوسرے ہاف کے اسٹاپج ٹائم کے پہلے منٹ میں واحد اور فیصلہ کن گول کرکے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔
شکست کے بعد 41 سالہ رونالڈو جذباتی ہو گئے اور آنکھوں میں آنسو آئے۔ اس موقع پر انہوں نےشائقین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
میچ کے بعد رونالڈو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس انداز میں ورلڈ کپ چھوڑنے پر افسردہ ہیں، مگر انہوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔ رونالڈو نے تصدیق کی کہ یہ ان کا آخری ورلڈ کپ تھا، تاہم انہوں نے پرتگال کی قومی ٹیم سے مکمل ریٹائرمنٹ کے بارے میں فوری فیصلہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ باقی معاملات پر سوچنے کے لیے وقت موجود ہے، وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاریں گے اور جذباتی لمحے میں کوئی جلدی فیصلہ نہیں کریں گے۔
رونالڈو کا ورلڈ کپ کیریئر 27 میچز پر ختم ہوا، جو لیونل میسی کے بعد کسی کھلاڑی کی دوسری سب سے زیادہ ورلڈ کپ اپیئرنسز ہیں۔
وہ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جن کے نام 146 گول اور 233 اپیئرنسز ہیں۔ رونالڈو نے پرتگال کے ساتھ یورو 2016 اور دو یوئیفا نیشنز لیگ ٹائٹل جیتے، مگر ورلڈ کپ ٹرافی ان کے شاندار کیریئر میں حاصل نہ ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ پرتگال کے لیے تین ٹائٹل جیتے ہیں، اور ان کے نزدیک یورو 2016 کی کامیابی ورلڈ کپ کے برابر ہے۔
پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینز نے رونالڈو کو مثالی کپتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف گولز اور اسسٹ کے حوالے سے نہیں بلکہ اپنے عزم، قیادت اور فٹبال سے محبت کی وجہ سے بھی ایک مثال ہیں۔ مارٹینز نے رونالڈو کو مکمل 90 منٹ میدان میں رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹیم کو گول کی ضرورت ہو تو کرسٹیانو رونالڈو کو باہر نہیں نکالا جا سکتا۔
رونالڈو واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے چھ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گول کیے۔ اس ورلڈ کپ میں انہوں نے تین گول کیے، مگر اسپین کے خلاف آخری میچ میں وہ پرتگال کو شکست سے نہ بچا سکے۔
اس شکست کے ساتھ پرتگال کا ورلڈ کپ سفر ختم ہو گیا، جبکہ رونالڈو کے لیے فٹبال کے سب سے بڑے اسٹیج پر ایک تاریخی عہد بھی اختتام پذیر ہو گیا۔