کم عمر افراد میں دل کی بیماریاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

دل کی بیماریاں اب صرف بڑی عمر کے افراد تک محدود نہیں رہیں۔ دنیا بھر میں نوجوانوں اور کم عمر افراد میں بھی دل کے مسائل تیزی سے سامنے آ رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ بدلتا ہوا طرزِ زندگی، غیر صحت مند خوراک، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور جسمانی سرگرمی میں کمی ہے۔

آج کی نوجوان نسل کا بڑا حصہ دن کا زیادہ وقت موبائل، کمپیوٹر یا دفتر کی نشست پر گزارتا ہے۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے وزن بڑھتا ہے، جسمانی نظام متاثر ہوتا ہے اور دل پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم عمری میں بھی دل کے دورے، شریانوں کی تنگی اور دیگر قلبی مسائل رپورٹ ہو رہے ہیں۔

غذا بھی اس بحران کی ایک اہم وجہ ہے۔ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، میٹھے مشروبات، بیکری مصنوعات اور زیادہ چکنائی والی خوراک نوجوانوں میں موٹاپے اور دل کے امراض کے خطرات بڑھا رہی ہے۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں مرغن کھانوں، گھی، نمک اور میٹھی اشیا کا زیادہ استعمال اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نسبتاً کم عمر میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ خاندانی رجحان، پیٹ کے گرد چربی، شوگر کا رجحان، تمباکو نوشی اور غیر متوازن خوراک ایسے عوامل ہیں جو نوجوانوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

تمباکو نوشی، ویپنگ اور شیشہ نوجوانوں میں تیزی سے عام ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ عادتیں خون کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق نکوٹین کا استعمال دل کی بیماریوں کے قابلِ روک تھام خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان میں بھی دل کی بیماریاں صحتِ عامہ کا بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ملک میں غیر صحت مند خوراک، موٹاپا، تمباکو، شوگر کا بڑھتا رجحان اور فضائی آلودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر نوجوانی ہی سے احتیاط نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں دل کے مریضوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے روزانہ چہل قدمی، متوازن غذا، تمباکو سے پرہیز، مناسب نیند، ذہنی سکون اور باقاعدہ طبی جانچ ضروری ہے۔ سینے میں درد، سانس پھولنا، غیر معمولی تھکن، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، چکر آنا یا بائیں بازو اور جبڑے میں درد جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں