پاکستان کے وزیر ماحولیات اور ازبک سفیر علی شیر کے درمیان ملاقات

ازبکستان سے وادی سندھ تک “گرین کوریڈور”بنانے کی تجویز پر اتفاق
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختئیوف سے ملاقات کی جس میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران سفیر نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پر زور دیا۔ سفیر نے موسمیاتی چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کیں، جن میں دوطرفہ ورکنگ گروپ کا قیام، مشترکہ موسمیاتی منصوبے، اوردیگر پروگرمات شامل ہیں۔

ازبک سفیر نے کثیر الجہتی موسمیاتی فورمز میں پاکستان کی فعال شرکت کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک مشترکہ موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خطے میں قیادت سنبھال سکتے ہیں۔

وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے ازبکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور ماحولیاتی مسائل پر علاقائی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے ازبکستان کے موسمیاتی اقدام کے عزم کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تعلیم کے لیے پاکستان ایک “گرین یونیورسٹی” کے قیام پر غور کر رہا ہےجس سے موسمیاتی تحقیق، طلباء اور فیکلٹی کے تبادلے، اور ازبکستان جیسے شراکت دار ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے ازبکستان کی گرین ویلی اور پاکستان کی وادی سندھ کو جوڑنے والے ایک “گرین کوریڈور” کی تشکیل کی تجویز پیش کی۔ یہ کوریڈور گرین پاکستان پروگرام اور ازبک شجر کاری اقدام کی توسیع جیسے باہمی تعاون کے منصوبوں کو بڑھائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں