وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی عالمی اوسط سے آگے

انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ایلڈور عریپوف نے آستانہ تھنک ٹینک فورم میں شرکت کی، جہاں انہوں نے وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی اور تعاون کے نئے مواقع پر روشنی ڈالی۔ عریپوف نے بتایا کہ خطے کی معیشت نے گزشتہ دس سالوں میں 6.2 فیصد کی پائیدار ترقی کی ہے، جبکہ عالمی اوسط 2.6 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا اب اعتماد اور تعاون کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں اختلافات کو ختم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے خطے کی ڈیجیٹلائزیشن کو اقتصادی ترقی کا نیا انجن قرار دیتے ہوئے بتایا کہ نوجوان آبادی اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ وسطی ایشیا کی ڈیجیٹل مصنوعات کی برآمدات کو تیز کر رہا ہے۔ توانائی کی ضروریات کے حوالے سے، انہوں نے قابل تجدید توانائی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خطے کو اگلے 5-10 سالوں میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

زرعی شعبے میں، عریپوف نے کہا کہ وسطی ایشیا یوریشیا کا ایک اہم زرعی صنعتی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خطے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو عالمی سافٹ پاور کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں