امریکا میں ایک ایسا منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد خلا میں بڑے آئینے نصب کرکے سورج کی روشنی زمین کے تاریک حصوں تک پہنچانا ہے۔
کیلیفورنیا کی ایک امریکی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل کا دعویٰ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے رات کے وقت مخصوص علاقوں میں دن جیسی روشنی پیدا کی جا سکے گی۔
کمپنی کا منصوبہ ہے کہ سال 2035 تک زمین کے گرد خلا میں تقریباً 50 ہزار آئینے نصب کیے جائیں۔ یہ آئینے سورج کی روشنی کو منعکس کرکے زمین کے منتخب مقامات پر ڈالیں گے۔
کمپنی کے مطابق اس مصنوعی روشنی کو زرعی پیداوار بڑھانے، قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں اور رات کے وقت سولر پینلز سے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے 9 جولائی کو کمپنی کے پہلے آزمائشی مشن کی منظوری دی تھی۔منصوبے کے تحت پہلا سیٹلائٹ، رواں سال خلا میں بھیجا جائے گا۔ اسے زمین سے تقریباً 625 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں رکھا جائے گا۔
یہ سیٹلائٹ حجم میں ایک چھوٹے فریج کے برابر ہوگا، لیکن اس میں نصب آئینہ ٹینس کورٹ جتنا بڑا ہوگا۔ یہ آئینہ انسانی بال سے بھی کئی گنا زیادہ باریک ہوگا۔آزمائش کے دوران آئینے کے ذریعے زمین پر تقریباً 24 مربع کلومیٹر کے علاقے کو روشن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
لیکن یہ منصوبہ جتنا حیران کن ہے، اتنا ہی متنازع بھی ہے۔ ماہرینِ فلکیات کو خدشہ ہے کہ خلا میں ہزاروں آئینے نصب ہونے سے رات کے آسمان کی قدرتی تاریکی متاثر ہوگی اور زمین سے ستاروں اور دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ مشکل ہو جائے گا۔