حوثیوں کا باب المندب پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ، عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

یمن میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی تحریک نے خطے کی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سے متعلق بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انصار اللہ کے سینیئر رہنما محمد البخیتی نے کہا ہے کہ حوثی فورسز نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف یمن کی جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحیرۂ احمر سے گزرنے والی عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی شپنگ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی صوبے تعز میں متعدد اہم علاقوں کے علاوہ الخالد اور جبل النصر کے فوجی اڈوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی اب بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع المخا بندرگاہ کے داخلی علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ المخا یمن کے مغربی ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہ ہے اور باب المندب کے قریب اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے عسکری اور تجارتی دونوں اعتبار سے اہم بناتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حوثیوں نے المخا ایئرپورٹ پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جبکہ ان کے سامنے مزاحمت کرنے والے بعض عناصر کی جانب سے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

لیکن اس خبر کا سب سے اہم پہلو باب المندب ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور پھر بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ یعنی یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے لیے یہ ایک قدرتی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔ بحری جہاز اس راستے سے گزر کر نہرِ سویز کے ذریعے بحیرۂ روم اور یورپی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے باب المندب میں پیدا ہونے والا بحران براہِ راست عالمی سپلائی چین کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خاص طور پر تیل، گیس، غذائی اجناس، کنٹینر کارگو اور دیگر صنعتی سامان کی ترسیل کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم ہے۔ اگر کسی طاقت کو اس گزرگاہ پر مؤثر عسکری کنٹرول حاصل ہوجائے یا یہاں جہاز رانی کو مسلسل خطرہ لاحق رہے تو عالمی شپنگ کمپنیاں متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔ اس صورت میں جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے پر موجود کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد گھومنا پڑ سکتا ہے، جس سے سفر کا فاصلہ، وقت، ایندھن اور لاگت بڑھ جاتی ہے۔

یہ صورتحال عالمی منڈی میں فریٹ چارجز، انشورنس پریمیم اور توانائی کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ بالخصوص یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کرنے والی کمپنیوں کے لیے باب المندب کی صورتحال ایک اہم جغرافیائی و معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔
اگر حوثیوں کی پیش قدمی اور باب المندب کے حوالے سے یہ دعوے مزید قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ سامنے آتے ہیں تو یہ یمن کی جنگ میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حوثی قوتیں نہ صرف یمن کے اندر اپنے مخالفین کے خلاف عسکری دباؤ بڑھا رہی ہیں بلکہ بحیرۂ احمر کی سمندری تجارت کے ایک انتہائی حساس مقام پر بھی اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں