یمن میں گروپ نے میزائل اور گائیڈڈ راکٹ بنانے کے لیے کلاڈ اے آئی استعمال کرنے کی کوشش کی: اینتھروپک، امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی

امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی یمن میں موجود ایک گروپ نے اس کے اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ کو گائیڈڈ راکٹ اور مختلف اقسام کے میزائل تیار کرنے کے منصوبوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔

اینتھروپک کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں میں کلاڈ کے استعمال سے متعلق جاری رپورٹ کے مطابق کمپنی نے شمالی یمن میں موجود ایسے افراد کے ایک گروپ کی نشاندہی کی جو ہتھیاروں کی تیاری کے تین مختلف منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ ان میں گائیڈڈ راکٹ، 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے کے ہدف والا بیلسٹک میزائل اور ایک ایسا میزائل منصوبہ شامل تھا جس میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل کی قسم بھی زیرِ غور تھی۔

کمپنی کے مطابق اس گروپ نے میزائل اور راکٹ کے لیے رہنمائی، راستے کے تعین اور کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے میں کلاڈ سے مدد حاصل کی۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کام کے لیے عام طور پر انجینئرز کی ایک ٹیم درکار ہوتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مذکورہ گروپ کوئی مکمل طور پر قابلِ استعمال ہتھیار تیار کرنے میں کامیاب ہوا۔ تاہم گروپ نے ایک گائیڈڈ راکٹ کا تجربہ ضرور کیا جو بظاہر ناکام رہا، جس کے بعد اس سے وابستہ افراد نے ناکامی کی وجہ جاننے کے لیے دوبارہ کلاڈ کا استعمال کیا۔

اینتھروپک کے مطابق غیر قانونی سرگرمی کا پتا چلتے ہی متعلقہ اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔ کمپنی نے یمن میں اس گروپ کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ رپورٹ میں اسے حوثی گروپ قرار نہیں دیا گیا، اس لیے براہِ راست حوثیوں سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا، اگرچہ شمالی یمن کے بڑے حصے پر حوثیوں کا کنٹرول ہے۔

اینتھروپک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ اس نے کلاڈ کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور یوکرین کے خلاف مبینہ روس سے منسلک سائبر جاسوسی مہم میں استعمال کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں۔ کمپنی نے چینی حریفوں پر بھی کلاڈ کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے خفیہ طریقے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں