آرچی بیلڈ گیلوے نے ٹھیک کہا تھا

پیٹرول پمپ پر اپنی رعونت دکھانے والے کو تھانے میں جوابی تھپڑ مارنے کی ویڈیو جب وزیر اعلیٰ کے اکاؤنٹ سے فخریہ طور پر شیئر کی گئی تو مجھے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابق وائس چیئرمین سر آرچیبلڈ گیلوے اور سٹرینجرز ان انڈیا کے مصنف اور راولپنڈی کے سابق ڈپٹی کمشنر پینڈرل مون یاد آ گئے۔ سوچ رہا ہوں کیا سر آرچی بیلڈ گیلوےا ور پینڈرل مون نے ٹھیک کہا تھا؟

اٹھارہ سو ستاون میں جب مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا دور تمام ہوا اور انہیں گرفتار کیا گیا تو اس کے تین سال بعد یہاں پولیس کا ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا۔ اس نظام کا مقصد انصاف دینا نہیں تھا بلکہ رعایا کو کچل کر رکھنا تھا تاکہ آئندہ اٹھارہ سو ستاون جیسی گستاخی کے بارے میں یہ رعایا سوچے بھی نہیں۔

جب یہ نظام متعارف کرایا جانے لگا تو اس وقت کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے وائس چیئرمین سر آرچیبلڈ گیلوے نے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں مغلوں کا جو پولیس کا نظام ہے، وہ شاندار طریقے سے کام کر رہا ہے اور مغلوں کا کوتوال کا نظام بعض حالات میں شام تک اور بعض صورتوں میں اگلی جمعرات جمعے تک فیصلہ کروا دیتا ہے۔ اس لیے اسی نظام کو قائم رکھا جائے۔

سر آرچیبلڈ گیلوے کا کہنا تھا کہ یہ جو نظام آپ یہاں پر لا رہے ہیں، یہ نظام تباہ کن ثابت ہوگا۔ آرچیبلڈ گیلوے نہ صرف برطانوی قانون کے ماہر تھے بلکہ وہ فقہ حنفی میں بھی بہت دلچسپی رکھتے تھے اور اسلامی قانون پر وہ ایک کتاب بھی لکھ چکے تھے جس کا نام تھا : اے کمنٹری آن محمدن لا ۔

آرچیبلڈ گیلوے کے تحفظات کا باقاعدہ تحریری جواب دیا گیا اور کہا گیا کہ ہم جو نیا نظام لا رہے ہیں، اس کا ایک خاص مقصد ہے۔ کہا گیا کہ مغلوں کا نظام بے شک بہت اچھا تھا۔ اس کی پولیس بہت متحرک اور فعال تھی اور اس پولیس کے نظام میں ملزموں کی سرکوبی بہت آسان تھی لیکن اس نظام میں ایک خرابی تھی۔ خرابی یہ تھی کہ اس میں ہمارے لیے “کنٹرول فرام دی ابوو” یعنی اوپر سے تسلط قائم کرنا ممکن نہیں۔ اور چونکہ ہم اب اس خطے میں “کنٹرول فرام دی ابوو” چاہتے ہیں، اس لیے مغلوں کا پولیس کا نظام ہمیں سوٹ نہیں کرتا۔ ہم نیا نظام لا رہے ہیں۔

یہ نیا نظام، یہ پولیس، یہ قانون، یہ سارا انصاف کا ڈھانچہ جو نوآبادیاتی دور میں مسلط کیا گیا، اس کا مقصد انصاف دینا تھا ہی نہیں۔ اس کا مقصد رعایا کو دبا کے رکھنا تھا ۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ غریب اور مظلوم کی داد رسی ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ اٹھارہ سو ستاون جیسی گستاخی اور بغاوت نہ ہو۔ یہ کنٹرول فرام دی ابوو کے لیے تھا۔ یہ نچلی سطح پر انصاف دینے کے لیے نہیں تھا۔

چنانچہ باقاعدہ طور پر یہ کہا گیا کہ نظام انصاف کو اتنا پیچیدہ بناؤ کہ یہاں کے لوگوں کی عمریں انصاف کے حصول میں گزر جائیں اور یہ بھی کہا گیا کہ سلطنت برطانیہ پابند نہیں ہے کہ وہ انصاف کرے۔ سلطنت برطانیہ اگر کسی کو انصاف دے تو یہ اس کی اپنے غلاموں اور اپنی رعایا کے لیے عنایت ہے، عطا ہے، یہ اس پر فرض نہیں ہے۔ فرمانبرداروں کو انصاف فراہم کیا جائے گا، گستاخوں کے لیے یہ سہولت نہیں ہے۔

۔
وہی نظام ابھی تک چل رہا ہے۔ وہی اٹھارہ سو ساٹھ والی پولیس ہے، وہی صدیوں پرانا فرسودہ نظام قانون ہے۔ اس زمانے کے مسلمان قاضیوں کی تذلیل کے لیے انہیں ایک خاص لباس پہنا کر نوآبادیاتی ججوں کے پیچھے کھڑا کر دیا گیا۔ خدام آج بھی وہی لباس پہن کر ججوں کے پیچھے ہی کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک پوری تہذیب کو ذلیل کیا گیا، اس کے نظام قانون کو درہم برہم کیا گیا اور ایک نوآبادیاتی نظام یہاں پر مسلط کیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد بھی ہم اس نوآبادیاتی نظام سے جان نہیں چھڑا سکے اور اب تو پورا معاشرہ دہائی دے رہا ہے کہ اس نظام میں انصاف کا حصول ممکن ہی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معاشرے کے ساتھ ساتھ لگتا یہ ہے کہ حکومت نے بھی دہائی دینا شروع کر دی ہے۔

یہ جو پولیس مقابلے ہو رہے ہیں یا یہ جو تھانوں میں رعونت دکھانے والے امیرزادوں کو جوابی تھپڑ لگائے جا رہے ہیں، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ فرنگی نوآبادیاتی نظامِ تعزیر پٹ چکا ہے اور سر آرچیبلڈ گیلوے نے جو یہ کہا تھا کہ یہ نیا نظام یہاں کے لوگون کی زندگی جہنم بنا دے گا وہ بات درست تھی ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بات صرف سر آرچیبلڈ گیلوے نے ہی نہیں کہی تھی، یہ بات پینڈل مون نے بھی کہی تھی۔ وہ راولپنڈی کے کمشنر رہے، ڈپٹی کمشنر بھی رہے اور انہوں نے اپنی کتاب سٹرینجرز اِن انڈیا میں یہی بات لکھی تھی کہ یہ جو نظام ہم متعارف کرا رہے ہیں، یہ نظام انصاف، یہ وکیل اور یہ پولیس، یہ ہمارے جانے کے بعد اس خطے کے لوگوں کو ایک ایسی دلدل میں پھینک دیں گے کہ ان کے لیے زندگی عذاب ہو جائے گی۔ تو وہ ہو چکی ہے۔

اب عوام بھی بات کو سمجھ رہے ہیں اور حکومت بھی اس بات کو سمجھ رہی ہے کہ اس نظام میں انصاف ممکن نہیں۔ لیکن حکومتوں نے جو متبادل حل تلاش کیا، وہ حل ٹھیک نہیں۔ یہ حل نئے مسائل کی طرف لے کے جائے گا۔

حل یہ نہیں کہ مجرم کو پولیس مقاابلے میں مار دیا جائے یا تھانے میں تھپڑ مار کر قانون کا بول بالا کر دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ اس نوآبادیاتی نظام کو ختم کریں اور اس کی جگہ پر ایک مقامی، انصاف پر مبنی نظام لائیں۔ قاتل کو سزا ملنی چاہیے لیکن وہ اسے عدالتوں کے ذریعے ملے۔ تھپڑ مارنے والے کو جوابی تھپڑ اسی دن لگنا چاہیے لیکن عدالت کے ذریعے لگنا چاہیے۔ نظام انصاف اور قانون کے ذریعے لگنا چاہیے۔

اگر آپ کے نظام انصاف میں یہ دم خم نہیں ہے تو پھر اس کا متبادل یہ نہیں ہے کہ آپ پولیس کو یہ سارے اختیار دے دیں۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ اس نظام کو لپیٹ دیں۔ وہ نظام لائیں جو رعایا کے لیے نہ ہو، شہریوں کے لیے ہو۔ وہ نظام لائیں جس کا مقصد رعایا کو دبا کر اور کچل کر رکھنا نہ ہو بلکہ شہری سمجھ کر اسے انصاف دینا ہو۔

جب تک اس نوآبادیاتی باقیات کو آپ ختم نہیں کریں گے، تب تک آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں