اینٹاریس: سورج سے سینکڑوں گنا بڑا ستارہ، جو چاند کے قریب کیوں دکھائی دیتا ہے؟

کائنات میں موجود ستاروں کی دنیا انسانی تصور سے کہیں زیادہ وسیع اور حیرت انگیز ہے۔ رات کے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے بظاہر چھوٹے روشن نقطوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان میں سے بعض ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا بڑے ہیں۔ ایسا ہی ایک غیر معمولی ستارہ اینٹاریس (Antares) ہے، جو برجِ عقرب میں واقع ہے اور اپنی سرخی مائل روشنی اور غیر معمولی جسامت کے باعث ماہرینِ فلکیات کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بعض راتوں میں یہ ستارہ چاند کے قریب بھی دکھائی دیتا ہے، جس سے عام مشاہدہ کرنے والوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سورج سے اتنا بڑا ستارہ چاند کے قریب کیسے نظر آ سکتا ہے؟

اینٹاریس ہماری کہکشاں ملکی وے میں واقع ایک سرخ عظیم الجثہ ستارہ ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں Red Supergiant کہا جاتا ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 550 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، یعنی تقریباً 9.46 کھرب کلومیٹر۔ اس اعتبار سے اینٹاریس کا زمین سے فاصلہ تقریباً 52 لاکھ ارب کلومیٹر بنتا ہے۔ اس غیر معمولی فاصلے کے باوجود یہ ستارہ رات کے آسمان میں نسبتاً آسانی سے دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس کی روشنی خارج کرنے کی صلاحیت سورج کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ ہے۔

اینٹاریس کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی جسامت ہے۔ مختلف سائنسی اندازوں کے مطابق اس کا نصف قطر سورج کے نصف قطر سے تقریباً 600 سے 800 گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ اگر اینٹاریس کو ہمارے نظامِ شمسی کے مرکز میں سورج کی جگہ رکھ دیا جائے تو اس کی بیرونی سطح مریخ کے مدار سے بھی آگے تک پھیل سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق مشتری کے مدار کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ عظیم الجثہ ستاروں کی بیرونی فضا واضح ٹھوس سطح نہیں رکھتی، اس لیے ان کی جسامت کا تعین مختلف مشاہداتی طریقوں سے کیا جاتا ہے اور نتائج میں فرق ممکن ہے۔

سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 5,500 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جبکہ اینٹاریس کی ظاہری سطح کا درجہ حرارت تقریباً 3,200 سے 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ سمجھا جاتا ہے۔ یہی نسبتاً کم درجہ حرارت اس کی روشنی کو سرخی مائل بناتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اینٹاریس سورج سے ٹھنڈا ہونے کے باوجود مجموعی طور پر کہیں زیادہ توانائی خارج کرتا ہے، کیونکہ اس کا پھیلاؤ انتہائی زیادہ ہے۔ ستارے کی روشنی اور توانائی کا تعلق صرف اس کے درجہ حرارت سے نہیں بلکہ اس کے مجموعی سطحی رقبے سے بھی ہوتا ہے۔

اینٹاریس کا شمار ان ستاروں میں ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری ارتقائی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس کی عمر تقریباً ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔ یہ مدت سورج کی تقریباً ساڑھے چار ارب سالہ عمر کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انتہائی بڑے ستارے اپنے مرکز میں موجود جوہری ایندھن کو نسبتاً تیزی سے استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی زندگی چھوٹے ستاروں کے مقابلے میں مختصر ہوتی ہے۔

ستاروں کی زندگی کا آغاز گیس اور گردوغبار کے وسیع بادلوں سے ہوتا ہے۔ کششِ ثقل کے زیرِ اثر مادہ ایک جگہ جمع ہونے لگتا ہے اور بالآخر مرکز میں اتنا دباؤ اور درجہ حرارت پیدا ہو جاتا ہے کہ ہائیڈروجن کے ایٹم مل کر ہیلیم بنانے لگتے ہیں۔ اس عمل کو نیوکلیئر فیوژن کہا جاتا ہے۔ اینٹاریس بھی اپنی ابتدائی زندگی میں اسی عمل سے توانائی حاصل کرتا رہا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مرکز میں ایندھن کی نوعیت بدلتی گئی اور ستارے کی بیرونی تہیں غیر معمولی طور پر پھیل گئیں۔

اینٹاریس کے بارے میں ایک اہم سائنسی سوال یہ ہے کہ کیا یہ مستقبل میں ایک بڑے دھماکے کے ساتھ اپنی زندگی ختم کرے گا؟ ماہرین کے مطابق اینٹاریس جیسے بڑے ستارے بالآخر سپرنووا کے مرحلے سے گزر سکتے ہیں۔ سپرنووا ایک ایسا فلکیاتی واقعہ ہے جس میں ستارے کے اندرونی ڈھانچے میں انتہائی بڑی تبدیلی کے نتیجے میں غیر معمولی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ تاہم اینٹاریس کے سپرنووا بننے کا درست وقت معلوم نہیں۔ یہ واقعہ فلکیاتی پیمانے پر نسبتاً مستقبل قریب میں ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اگلے چند برسوں یا انسانی زندگی کے دوران لازماً پیش آئے گا۔

اگر اینٹاریس مستقبل میں سپرنووا بنتا ہے تو زمین سے اس کا منظر غیر معمولی ہو سکتا ہے۔ بعض سائنسی اندازوں کے مطابق ایسا واقعہ رات کے آسمان میں انتہائی روشن دکھائی دے سکتا ہے۔ تاہم اس کی ممکنہ چمک کا انحصار دھماکے کی خصوصیات پر ہوگا۔ زمین سے تقریباً 550 نوری سال کے فاصلے کے باعث اسے عموماً زمین پر زندگی کے لیے فوری تباہ کن خطرہ نہیں سمجھا جاتا، اگرچہ کسی بھی سپرنووا کے ممکنہ اثرات کا درست اندازہ اس کی توانائی اور خارج ہونے والی شعاعوں کی نوعیت سے متعلق ہوگا۔

اینٹاریس کے بارے میں عام لوگوں کی دلچسپی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ چاند کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ دراصل چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور آسمان میں اس کا ظاہری راستہ ان علاقوں کے قریب سے گزرتا ہے جہاں برجِ عقرب کے ستارے موجود ہیں۔ اسی وجہ سے بعض مواقع پر چاند اور اینٹاریس آسمان میں ایک دوسرے کے بہت قریب دکھائی دیتے ہیں۔ یہ قربت محض ظاہری ہوتی ہے۔ چاند زمین سے اوسطاً تین لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے، جبکہ اینٹاریس سینکڑوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

کبھی کبھار چاند اپنی گردش کے دوران زمین سے دیکھنے پر اینٹاریس کے سامنے سے بھی گزر جاتا ہے۔ فلکیات میں اس واقعے کو Occultation یا احتجاب کہا جاتا ہے۔ اس دوران ستارہ مختصر وقت کے لیے چاند کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور پھر دوبارہ نمودار ہوتا ہے۔ اس منظر کو زمین کے مخصوص علاقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے واقعات کی پیش گوئی فلکیاتی حسابات کے ذریعے پہلے سے ممکن ہوتی ہے۔

اینٹاریس کی سائنسی اہمیت کا ایک اور پہلو اس کے گرد موجود گیس اور گردوغبار ہے۔ جدید دوربینوں سے کیے گئے مشاہدات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ستارہ اپنی بیرونی تہوں سے مادہ خلا میں خارج کر رہا ہے۔ یورپی جنوبی رصدگاہ کے سائنس دانوں نے جدید مشاہداتی آلات کی مدد سے اینٹاریس کی سطح اور اس کی فضا میں گیس کی حرکت کا مطالعہ کیا ہے۔ ان مشاہدات نے واضح کیا کہ عظیم الجثہ ستاروں کی بیرونی فضا نہایت پیچیدہ اور متحرک ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کے لیے اینٹاریس کا مطالعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس جیسے ستارے کائنات میں بھاری عناصر کی تشکیل اور ان کی تقسیم کے عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بڑے ستاروں کے اندر مختلف جوہری مراحل میں نئے عناصر بنتے ہیں، جبکہ ان کے آخری ارتقائی واقعات ان عناصر کو خلا میں پھیلانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بعد میں یہی مادہ نئی ستاروی نسلوں، سیاروں اور دیگر فلکیاتی اجسام کی تشکیل میں شامل ہو سکتا ہے۔

اینٹاریس کا نام بھی دلچسپ تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ یہ قدیم یونانی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا مفہوم مریخ کے مقابل یا مریخ جیسا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اینٹاریس کی سرخی مائل روشنی بظاہر سیارہ مریخ سے مشابہت رکھتی ہے۔ قدیم تہذیبوں میں برجِ عقرب اور اس کے روشن ستارے کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ آج بھی یہ ستارہ فلکیات کے شوقین افراد کے لیے آسمان کی نمایاں نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔

جدید فلکیاتی تحقیق نے انسان کو یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ کائنات میں ہمارا سورج اگرچہ زمین پر زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن جسامت اور روشنی کے اعتبار سے یہ کوئی غیر معمولی بڑا ستارہ نہیں۔ اینٹاریس جیسے عظیم الجثہ ستارے اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہماری کہکشاں میں مختلف جسامتوں، درجہ حرارت اور ارتقائی مراحل کے بے شمار ستارے موجود ہیں۔

اینٹاریس کا چاند کے قریب دکھائی دینا، اس کی غیر معمولی جسامت، سرخی مائل روشنی اور مستقبل میں ممکنہ سپرنووا بننے کا عمل اسے فلکیاتی تحقیق کا اہم موضوع بناتے ہیں۔ یہ ستارہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ رات کے آسمان میں دکھائی دینے والا ایک معمولی سا روشن نقطہ حقیقت میں ایک ایسی عظیم کائناتی ساخت ہو سکتا ہے جس کی وسعت ہمارے پورے اندرونی نظامِ شمسی سے بھی زیادہ ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں