سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ تقریباً چھ کروڑ 60 لاکھ سال قبل زمین سے ٹکرانے والے ایک بڑے سیارچے کے نتیجے میں ڈائنوسارز سمیت بے شمار جانداروں کی نسلیں ختم ہو گئیں، لیکن مگرمچھ اس تباہی میں زندہ بچنے میں کامیاب رہے۔ محققین کے مطابق مگرمچھوں کی بقا کی ایک اہم وجہ گرم آب و ہوا سے ان کی وابستگی تھی۔ ان جانوروں کے آباؤ اجداد تقریباً 24 کروڑ سال قبل زمین پر نمودار ہوئے تھے اور لاکھوں برسوں کے دوران بدلتے ہوئے موسموں کے باوجود انہوں نے زیادہ تر گرم علاقوں میں رہنے کو ترجیح دی۔
نئی تحقیق سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے مگرمچھوں اور ان کے معدوم ہو جانے والے رشتہ داروں کی 400 سے زائد اقسام کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے سات ہزار سے زیادہ فوسلز، موجودہ مگرمچھوں کی جغرافیائی موجودگی اور زمین کے قدیم موسموں سے متعلق 52 سائنسی ماڈلز کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ مگرمچھ موسم کے مطابق اپنی رہائش کے علاقے تبدیل کرتے رہے۔ جب زمین کا درجہ حرارت بڑھتا تو وہ قطبی علاقوں کی طرف پھیل جاتے، جبکہ سردی بڑھنے پر نسبتاً گرم خطوں کی جانب واپس آ جاتے تھے۔ تقریباً پانچ کروڑ سال قبل زمین کے گرم دور میں مگرمچھ شمالی امریکہ، یورپ اور انٹارکٹیکا تک موجود تھے۔
محققین کے مطابق چھ کروڑ 60 لاکھ سال قبل میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاتان کے قریب ایک بڑے سیارچے کے ٹکرانے سے زمین پر شدید ماحولیاتی تبدیلیاں آئیں۔ فضا میں گردوغبار پھیلنے کے باعث سورج کی روشنی کم ہو گئی اور عالمی درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ اس تباہی کے نتیجے میں زمین پر موجود تقریباً تین چوتھائی جانداروں کی نسلیں ختم ہو گئیں، جن میں پرندوں کے علاوہ باقی ڈائنوسارز بھی شامل تھے۔ تاہم سائنسی ماڈلز سے ظاہر ہوا کہ بیشتر ممکنہ حالات میں استوائی اور نیم استوائی علاقے مگرمچھوں کے لیے موزوں حد تک گرم رہے۔ یہی علاقے ان کی بعض آبادیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہوئے ہوں گے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مگرمچھوں کی جسمانی خصوصیات نے بھی انہیں اس مشکل دور میں زندہ رہنے میں مدد دی۔ مگرمچھ سرد خون والے جانور ہیں، جنہیں اپنے جسمانی افعال برقرار رکھنے کے لیے گرم خون والے جانوروں کے مقابلے میں نسبتاً کم خوراک اور توانائی درکار ہوتی ہے۔ یہ خوراک کی شدید کمی کے دوران طویل عرصے تک بغیر کھائے زندہ رہ سکتے ہیں اور انتہائی موسم میں اپنی سرگرمیاں، دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی رفتار کم کر دیتے ہیں۔ محققین کے مطابق سیارچے کے ٹکرانے کے بعد جب خوراک کے ذرائع محدود ہو گئے تو توانائی بچانے کی یہ صلاحیت ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرِ قدیم حیاتیات الفیو الیساندرو کیارینزا کے مطابق مگرمچھوں کی ارتقائی تاریخ اس بات کی مثال ہے کہ بعض جانور نئے موسمی حالات کے مطابق خود کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے بجائے اپنے لیے موزوں ماحول تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ماضی میں مگرمچھوں کے رشتہ داروں میں خشکی پر رہنے والے بڑے شکاری، پودے کھانے والی اقسام اور سمندروں میں زندگی گزارنے والے جانور بھی شامل تھے۔ بعض قدیم مگرمچھ تقریباً 12 میٹر تک لمبے ہوتے تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ آج موجود مگرمچھ، ایلیگیٹر، کیمن اور گھڑیال دراصل اس وسیع اور متنوع ارتقائی خاندان کی بچ جانے والی چند شاخیں ہیں۔ نئی تحقیق نہ صرف ان کی طویل بقا کی ممکنہ وجوہات واضح کرتی ہے بلکہ یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے کہ زمین کے موسم میں بڑی تبدیلیاں مختلف جانداروں کی بقا کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔