قدیم مصر کی تاریخ میں “فرعون کی بددعا، لعنت یا شراپ “ایک مشہور موضوع رہا ہے۔ خاص طور پر جب 1922 میں مشہور آثارِ قدیمہ کے ماہر ہاورڈ کارٹر نے توتخ عمون (Tutankhamun) کی قبر کی دریافت کی۔ اس کے بعد، یہ افسانہ سامنے آیا کہ اس قبر پر ایک پراسرار بددعا یا لعنت کے الفاظ لکھے تھے جس نے اس کے دریافت کنندگان اور اس سے جڑے افراد کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔
حقیقت کیا ہے؟
اگرچہ “لعنت”یا “بددعا ” کی کہانیاں مشہور ہو چکی ہیں، لیکن جدید تحقیق اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ کوئی سچائی نہیں رکھتیں۔ قدیم مصر میں ایسی تحریریں ضرور ملیں جو قبر کی حفاظت اور اس کی تقدس کے بارے میں تھیں، لیکن ان کا مقصد کسی فرعون یا عظیم حکمران کے “لعنت” کا پیغام دینا نہیں تھا۔
توتخ عمون کی قبر میں ایک تحریر ملی تھی جس میں لکھا تھا: “جو شخص میری قبر میں دخل اندازی کرے گا، میں اس کی گردن پکڑ لوں گا جیسے پرندہ شکار کو پکڑتا ہے”۔ تاہم، اس کا مقصد صرف اس قبر کی حفاظت کرنا تھا اور اس میں کسی قسم کی لعنت یا بددعا نہیں تھی۔
سائنسی وضاحت
سائنسی تحقیق کے مطابق، “فرعون کی لعنت” کے افسانے کا ایک بڑا سبب قدیم مصری قبروں میں موجود جراثیم اور بیکٹیریا ہو سکتا ہے۔ “Aspergillus flavus” جیسے فنگس جو قدیم ممیوں اور قبروں میں پائے گئے، وہ انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، جیسے سانس کی بیماریاں اور انفیکشنز۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ جب قبریں کھودنے والے چند افراد جنہوں نے مناسب حفاظتی آلات، ماسک وغیرہ نہیں پہن رکھے تھے، وہ اس فنگس کا شکار ہو کر فوت ہوئے، تو اس بیماری کے اثرات نے ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں میں بیماری پھیلائی، جس سے فرعون کی پراسرار بددعا یا ہندی اصطلاح میں شراپ کے بارے میں کہانیاں جنم لیں۔
ذرائع ابلاغ کا کردار
جب ہاورڈ کارٹر اور ان کے ٹیم نے توتخ عمون کی قبر کو دریافت کیا، تو اس کے بعد ایک زبردست میڈیا ہائپ بنی۔ خاص طور پر جب اس کے اسپانسر، لارڈ کارنارون کی اچانک موت ہوئی، جس کا میڈیا نے اس قبر کی “لعنت” سے جوڑا۔ دراصل لارڈ کارنارون کی موت مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے خون کی زہر کی وجہ سے ہوئی تھی، لیکن اس کو “فرعون کی لعنت” کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس طرح میڈیا نے اس کہانی کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اس کی وجہ سے “فرعون کی لعنت” کے افسانے کو مزید شہرت حاصل ہوئی۔
نتیجہ
قدیم مصر میں “لعنت” یا بددعا کی تحریریں ملنا عام بات تھی، مگر ان کا مقصد سونے چاندی کے برتن چرانے کی غرض سے قبریں کھودنے والے چوروں کو ڈرانا تھا نہ کہ واقعی ان مردوں میں کوئی ایسی پراسرار قوت موجود تھی جو اثرانداز ہوسکتی۔ توتخ عمون کی قبر میں ایسی کوئی “لعنت” نہیں تھی جس کا میڈیا نے دعویٰ کیا۔ اس کے بجائے، یہ صرف میڈیا کا تخلیق کردہ ایک افسانہ تھا جس کو سائنسی تحقیق اور آثارِ قدیمہ کی تفصیلات نے غلط ثابت کر دیا۔
یہ کہانی آج بھی مشہور ہے، لیکن اب یہ ایک واضح سائنسی حقیقت کے ساتھ واضح ہو چکی ہے کہ “فرعون کا لعنت” صرف ایک افسانہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔