جعفر ایکسپریس حملہ ، ریلوے ٹریک بحال، سیکیورٹی کلیئرنس کا انتظار

بلوچستان کے ضلع کچھی میں 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد تباہ ہونے والی ریلوے پٹڑی کی مرمت کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق ٹرین کی آمدورفت کا فیصلہ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد کیا جائے گا۔
پیر کو ریلوے ترجمان نے بتایا کہ ریلیف آپریشن شام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق، حملے میں پٹڑی کا 398 فٹ حصہ متاثر ہوا اور جعفر ایکسپریس کا انجن اور پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ مچھ اور سبی سے ریلیف ٹرینیں متاثرہ مقام پر پہنچیں اور کرینوں کی مدد سے بوگیوں اور انجن کو پٹڑی سے ہٹایا گیا۔
ریلوے حکام کے مطابق بحالی کے کام میں آٹھ سے نو گھنٹے درکار تھے، تاہم رمضان، سیکیورٹی کلیئرنس اور پہاڑی سلسلے کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں۔ اب انجن اور بوگیوں کو مچھ یا سبی ریلوے اسٹیشن منتقل کیا جائے گا۔
جعفر ایکسپریس اور بولان میل ٹرین سروس حملے کے بعد سے معطل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ٹرین سروس کی بحالی کا فیصلہ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد کیا جائے گا۔ بلوچستان اور وفاقی حکومت نے ریلوے ٹریک اور ٹرینوں کی سیکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق، ٹرین سروس کی بحالی سے قبل سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور حساس مقامات پر سیکیورٹی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ 11 مارچ کو ہونے والے حملے میں 26 مسافر شہید ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں