افغانستان کے مشرقی پہاڑی علاقے ہندوکش میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث مقامی افراد نے سونے کی تلاش کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، صوبہ کنڑ کے دشوار گزار علاقوں میں سینکڑوں افراد دریا کے کناروں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر محنت کرکے سونے کے ذرات تلاش کر رہے ہیں تاکہ اپنی گزر بسر کر سکیں۔
کنڑ کے ضلع نرائے کے علاقے کھرولو کے قریب، جہاں کچی اینٹوں کے گھر اور سیڑھی نما کھیت موجود ہیں، مزدور پہلے دریا کے خشک حصوں سے پتھر نکالتے ہیں اور پھر انہیں پانی کے ذریعے چھان کر سونے کے ذرات تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ دریائے کنڑ سے پانی بھر کر پتھروں کو دھوتے ہیں تاکہ قیمتی ذرات الگ کیے جا سکیں۔
45 سالہ دلاور، جو آٹھ بچوں کے والد ہیں، نے کابل کے قریب تعمیراتی کام چھوڑ کر اس پیشے کو اختیار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے انہوں نے خود ہی کام پیدا کیا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ملنے والا سونا گندم کے دانے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔
اسی طرح غازی آباد کے علاقے میں بھی سینکڑوں افراد پہاڑوں کو توڑ کر بھاری بوریوں میں پتھر نیچے لاتے ہیں اور چھلنیوں کے ذریعے ان میں سے سونا نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض مزدور پیلے ڈبوں کو لکڑی کے ڈنڈوں کے ساتھ جوڑ کر پانی بہاتے ہیں تاکہ باریک ذرات الگ ہو سکیں، اور کئی مراحل کی چھانٹی کے بعد کبھی کبھار سونے کے ذرات ہاتھ آ جاتے ہیں۔
35 سالہ گل احمد جان کے مطابق یہ کام بعض اوقات فائدہ مند بھی ثابت ہوتا ہے، اور ایک ہفتے میں تقریبا ایک گرام سونا حاصل ہو جاتا ہے جس کی قیمت لگ بھگ آٹھ ہزار افغانی بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کے قدرتی وسائل دہائیوں پر محیط جنگ کے باعث زیادہ تر استعمال میں نہیں لائے جا سکے، تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کنڑ میں سونے کی تلاش کا یہ عمل گزشتہ دس برس سے جاری ہے، جو اب لوگوں کے لیے ایک اہم ذریعہ معاش بنتا جا رہا ہے۔