دماغ خود کو کب کھاتا ہے؟

یہ حیران کن مگر سچ ہے کہ مخصوص حالات میں انسانی دماغ “اپنے آپ کو کھانا” شروع کر دیتا ہے – ایک ایسا عمل جسے سائنسی زبان میں آٹو فیجی (Autophagy) یا نیورونل سیلف-ڈیگریڈیشن کہا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق، آٹو فیجی وہ کیفیت ہے جس میں دماغی خلیے خود کو تباہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس عمل کی سب سے عام وجوہات میں نیند کی کمی، دماغی امراض (جیسے الزائمر)، اور شدید ذہنی دباؤ یا غذائی قلت شامل ہیں۔

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ نیند کی کمی کے دوران دماغ کے اندر موجود ایسٹرو سائٹس نامی خلیے صحت مند نیورونز کو بھی صاف کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔
اسی طرح، الزائمر کے مریضوں میں دماغی خلیے آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتے ہیں، اور یادداشت یا سوچنے کی صلاحیت بتدریج زائل ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، تناؤ یا توانائی کی شدید کمی کی حالت میں دماغ کے کچھ خلیے، مثلاً مائیکروگلیا، اپنے ہی نیورونز کو توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ نیند کی مسلسل کمی برین آٹو فیجی کو تیز کر سکتی ہے، جو الزائمر جیسے مہلک امراض کی شروعات کا سبب بن سکتی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے متوازن نیند، متوازن غذا اور ذہنی دباؤ سے بچاؤ بے حد ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں