پاکستان: مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ڈی پورٹ کئے گئے مسافروں کا پاسپورٹ بلاک کیا جائے گا، وفاقی وزارت داخلہ

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ، محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ، بیرونِ ملک مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جائیں گے اور ان کے لیے نئی سفری دستاویزات کے اجرا کا طریقہ کار سخت کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک غیرقانونی سرگرمیوں، خاص طور پر بھیک مانگنے جیسے عمل کی روک تھام ہے جو حالیہ برسوں میں تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
سینکڑوں پاکستانی شہری، بالخصوص خلیجی ممالک سے، ایسے الزامات کے تحت ملک بدر کیے جا چکے ہیں جن میں بھیک مانگنے جیسے غیر قانونی افعال سرفہرست ہیں۔
وفاقی وزیر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران حکام کو ہدایت دی کہ، پاسپورٹ کے اجرا کے لیے نئی شرائط سے متعلق تمام قانونی تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں، تاکہ ان سرگرمیوں کی مؤثر روک تھام ممکن ہو۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ، ان نئی ہدایات سے نہ صرف غیرقانونی امیگریشن پر قابو پانے میں مدد ملے گی، بلکہ وہ افراد جو بیرونِ ملک جا کر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں، ان کی مؤثر اسکریننگ ممکن ہو سکے گی۔
اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ خرم آغا، ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجا اور ڈی جی پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی بھی شریک ہوئے۔ طلال چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، اس فیصلے سے عالمی برادری کو پاکستان کے اس عزم کا واضح پیغام جائے گا کہ، وہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کے لیے تیار ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ نے نہ صرف ڈی پورٹ کیے گئے افراد کے پاسپورٹس کو بلاک کرنے کی ہدایت پر مکمل عمل درآمد کا عندیہ دیا، بلکہ امیگریشن اور پاسپورٹ کے شعبے میں جدید سہولیات کے فروغ پر بھی زور دیا۔
انہوں نے پاسپورٹ کی پرنٹنگ کے لیے نصب کی گئی نئی مشینوں کا معائنہ کیا اور جرمنی سے آئے ماہرین سے ملاقات بھی کی جو ان مشینوں کی تنصیب میں مصروف ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ، ان نئی مشینوں کی بدولت پاسپورٹ کے اجرا کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی اور دفتر کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔
ڈی جی پاسپورٹ، مصطفیٰ جمال قاضی نے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا کہ، عوامی سہولت کے پیشِ نظر ایک موبائل ایپ بھی جلد متعارف کرائی جائے گی جس سے پاسپورٹ سے متعلقہ خدمات کو مزید آسان بنایا جا سکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں