پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے طلبہ ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ اور دیگر آؤٹ سائیڈرز کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہاسٹلز آٹھ اپریل تک بند رہیں گے اور پڑھائی نو اپریل سے شروع ہوگی ۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران درجنوں غیرقانونی طور مقیم افراد کو ہاسٹلز سے نکال کر ان کے سامان کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، آپریشن میں سترہ بوائر اور گیارہ گرلز ہاسٹلز پر چھاپے مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ طلبہ کو رمضان کے آغآز ہی میں اس اپریشن کا کہہ دیا گیا ،تاہم عید سے ایک روز قبل باقاعدہ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
عید سے قبل یونیورسٹی اتنظامیہ کی جانب سے سرکلر جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا کہ اساتذہ اور طلبہ اپنا شناختی کارڈ یا یونیورسٹی کارڈ دکھا کر داخل ہوں۔
یونورسٹی نے کہا ہے کہ 8 اپریل سے صرف وہ طلبا ہاسٹل میں داخل ہو سکیں جن کو باقاعدہ طور پر کمرہ الاٹ کیا گیا ہوگا، بغیر الاٹمنٹ کے ہاسٹلز میں داخل ہونے والے طلبا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یونیورسٹی انتظآمیہ کے مطابق ایسے بہت سے لڑکے کمروں میں رہ رہے ہیں جن کی ڈگری مکمل ہوگئی یا جو ایوننگ کلاسز لے رہے ہیں اور رولز کے مطابق انہیں کمرہ نہیں مل سکتا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض طلبہ تنظیموں کے لڑکوں نے بھی کمروں پر قبضہ کر رکھا ہے۔